سرینگر کے بعض علاقوں میں امتناعی احکام نافذ

سری نگر میں شہر خاص (ایس ای کے) ڈاؤن ٹاؤن اور قدیم شہر اور سیول لائنس کے چند حصوں میں کرفیو جیسی تحدیدات عائد کی گئی ہیں ، تاکہ لا اینڈ آرڈر کے کسی مسئلہ کو ٹالا جاسکے ، کیوںکہ سیکورٹی فورسس کی کارروائی میں شوپیان اور گندر بل اضلاع میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کشمیر اکنامک الائنس (کے ای ای) کا ایک گروپ اور تاجرین کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کیا گیا تھا۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ امن و ضبط کی برقراری کے لیے احتیاطی قدم کے طور پر اپریل کے دوران ڈاؤن ٹاؤن اور شہر خاص میں تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت (جے آر ایل) جو سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک پر مشتمل ہے ، اس نے عوام سے کہا ہے کہ وہ بربریت کے خلاف جمعہ کی نماز کے بعد اپنے متعلقہ علاقوں میں احتجاج منعقد کریں۔ اسی دوران جامع مسجد (جو میر واعظ مولوی کا مضبوط گڑھ ہے اور جو پیر سے گھر پر نظربند ہیں) کے تمام گیٹس بند کریے گئے ، تاکہ کسی مظاہرہ کو ناکام بنایا جائے ۔ پولیس نے بتایا کہ سی آر پی کی دفعہ 144 کے تحت تحدیدات پولیس اسٹیشن ایم آر گنج ، نوہٹہ ، صفا کدل ، کھنیار اور رین واڑی (ڈاؤن ٹاؤن) اور ایس ای کے کے دائرۂ کار میں آنے والے علاقوں میں عائد کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ میسومہ کے پولیس اسٹیشن کے تحت علاقوں کے حصوں سیول لائنس اور قدیم شہر میں بھی تحدیدات نافذ ہیں ، تاہم زمینی صورتِ حال بالکل مختلف ہے ، کیوںکہ ڈاؤن ٹاؤن اور شہر خاص میں سیکورٹی فورسس اور ریاستی پولیس ملازمین تعینات ہیں ، جو عوام کو گھروں میں ہی رہنے کی ہدایت دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بموجب علیحدگی پسندوں کی جانب سے احتجاجوں اور تجارتی تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کے پیش نظر نظم و ضبط برقرار رکھنے احتیاطی اقدام کے طور پر گرمائی دارالحکومت کے بشمول کشمیر کے بعض حصوں میں حکام نے آج تحدیدات عائد کردیں ۔ پولیس کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ قانون ضابطہ فوجداری کے دفعہ 144 کے تحت سرینگر کے سات پولیس اسٹیشنوں کے علاقوں میں تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گرمائی دارالحکومت میں خان یار ، مہاراج گنج ، نوہٹہ ، راینا واری ، صفا کدل ، میسومہ اور گرائی کھد پولیس اسٹیشنوں کے علاقوں میں تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ عہدیدار نے بتایا کہ وسطی کشمیر کے ضلع گندیر بل کے ٹاؤن کنگن کے علاوہ جنوبی کشمیر کے ٹاؤن شوپیان میں بھی تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ کل جب کہ تحدیدات نہیں تھیں تین دن کے بند کے بعد اسکولس اور کالجس دوبارہ کھلے ۔ وادی کے کئی مقامات پر مختلف تعلیمی اداروں کے طلباء کی جانب سے پرتشدد احتجاج برپا ہوئے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ کشمیر میں ٹرین خدمات بھی بند کردی گئیں۔ شوپیان اور گندیر بل میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف کشمیر اکنامک الائنس (معاشی اتحاد) اور تاجروں کی جانب سے عام ہڑتال کے اعلان پر بطورِ احتیاطی اقدام وادئ کشمیر میں تمام تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا۔ کشمیر یونیورسٹی، اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور سنٹرل یونیورسٹی کشمیر میں امتحانات اور تدریسی امور بھی ملتوی کردیئے گئے۔ وادی میں پیر کے دن سے بند تعلیمی ادارے کل دوبارہ کھلنے پر کئی اداروں میں احتجاج شروع ہونے پر ڈیویژنل حکام نے وادی میں جمعہ کو تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان کیا ۔ اتوار کے دن تین علیحدہ انکاؤنٹرس میں سرفہرست کمانڈروں کے بشمول 13 عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاجی سڑکوں پر نکل آنے پر سیکورٹی فورسس کی کارروائیوں میں جنوبی کشمیر میں چار شہری اور وسطی کشمیر کے مقام گندر بل میں ایک شہری ہلاک ہوا تھا۔ کے ای اے اور تاجروں نے آج عام ہڑتال کا اعلان کیا تھا ، جب کہ مشترکہ مزاحمتی قیادت جس میں سید علی شاہ گیلانی ، میر واعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک شامل ہیں نے عوام سے کہا تھا کہ وہ اپنے علاقوں میں نماز ِ جمعہ کے بعد شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کریں۔

جواب چھوڑیں