غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہوگئی

اسرائیل اور غزہ کے درمیان خاردار باڑھ کے قریب فلسطینیوں کے احتجاج کے دوران ایک ہفتہ میں مرنے والوں کی تعداد 22 ہوگئی ہے۔ جمعہ کے دن ایک شخص جانبر نہ ہوسکا۔ یہ شخص ایک ہفتہ قبل اسرائیلی فورسس کی کارروائی میں زخمی ہوا تھا ۔اسرائیلی فوج نے ڈرونس کے ذریعہ ہجوم پر آنسو گیس شل برسائے تھے۔ نیویارک ٹائمس نے یہ اطلاع دی۔ غزہ میں وزارت ِ صحت نے بتایا کہ احتجاج میں تاحال 20 فلسطینیوں کی جان گئی ہے۔ اس نے خاردار باڑھ کے قریب مرنے والے 2 افراد کو شمار نہیں کیا۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے 3 افراد کو پیر میں گولی ماری تھی کیونکہ احتجاجیوں نے کاروں کے پہیے جلائے تھے اور سنگباری کی تھی۔ احتجاجیوں کا مطالبہ ہے کہ پناہ گزینوں کو ان کی آبائی سرزمین واپسی کی اجازت دی جائے جو اَب اسرائیل میں ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند گروپ حماس جس کا غزہ پر غلبہ ہے‘ احتجاجیوں کی آڑ میں اسرائیل کے علاقہ میں غیرقانونی طورپر داخل ہونے کی کوشش کررہا ہے۔ اسرائیل کے وزیر دفاع لیبر میان نے خبردار کیا کہ غزہ میں سرحدی باڑھ کے قریب آنے والا کوئی بھی شخص اپنی جان جوکھم میں ڈالے گا۔ انہوں نے کہا کہ اشتعال انگیزی ہوئی تو ویسا ہی سخت ردعمل ہوگا جیسا کہ گذشتہ ہفتہ ہوا تھا۔اقوام متحدہ اور یوروپین یونین نے گذشتہ ہفتہ کی اموات کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا اور امن کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کو زیادہ سے زیادہ تحمل برتنا چاہئے اور فلسطینیوں کو غزہ کی سرحد کے قریب ٹکراؤ سے بچنا چاہئے۔ پرامن طورپر احتجاج کی اجازت ہونی چاہئے۔

جواب چھوڑیں