مرکز پر ریاستی حکومت کو کمزور کرنے کا الزام۔ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈ کی سیکل یاترا

آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے جمعہ کو سیکل یاترا میں شرکت کی اور نائیڈو نے سیکل پر وینکٹا پالم سے اسمبلی کا 5 کیلو میٹر طویل راستہ طئے کیا ۔ سیکل چلاتے ہوئے وہ ، اسمبلی پہنچے ۔ تلگودیشم پارٹی نے ریاست بھر میں سیکل یاترا منظم کرنے کی عوام سے اپیل کی تھی ۔ جس کا اصل مقصد ریاست کو خصوصی موقف دینے کے مطالبہ کے بشمول اے پی تنظیم جدید ایکٹ پر مکمل عمل آوری پر زور دینا تھا ۔ چیف منسٹر ، صبح کے وقت وینکٹا پالم موضع پہنچے اور بانی پارٹی این ٹی راما راؤ کے مجسمہ پر پھول چڑھائے ۔ بعدازاں انہوںنے یہاں سے سیکل یاترا کی قیادت کی ۔ وینکٹا پالم ، ریاستی سکریٹریٹ سے 5کیلو میٹر دور کی مسافت پر واقع ہے ۔ نائیڈو مندادم سے ہوتے ہوئے اسمبلی پہنچے ۔ اس یاترا میں وزرائ، ٹی ڈی پی کے ارکان اسمبلی اور دیگر قائدین شریک تھے ۔ قبل ازیں اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نائیڈو نے ریاست کے عوام پر زور دیا کہ وہ ریاست کو خصوصی موقف کے مطالبہ پر جاری احتجاج میں حصہ لیں۔ انہوںنے نریندر مودی کی حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ، اے پی تنظیم جدید ایکٹ پر عمل نہ کرتے ہوئے ریاست کے عوام کے جذبات سے کھلواڑ نہ کرے ۔ انہوں نے یاد دلایا کہ1984 میں اس وقت کی وزیر اعظم اندرا گاندھی نے این ٹی آر کو اقتدار سے معزول کردیا تھا مگر اس کے بعد عوام کے احتجاج کے بعد اندرا گاندھی کو اس کی قیمت چکانی پڑی تھی ۔ نائیڈو نے الزام عائد کیا کہ مرکز، حکومت آندھراپردیش کو کمزور کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔ مگر ایسا ممکن نہیں ہے ۔ اے پی کو خصوصی موقف کا درجہ دلانا ریاست کے عوام کی اجتماعی ذمہ داری ہے ۔ دریں اثنا میڈیکل طالبہ یوگینا نے امراوتی شہر کے تعمیری کاموں کیلئے5لاکھ روپے کا چیک، نائیڈو کے حوالہ کیا ۔ وینکٹا پالم تا اسمبلی جانے کے راستہ کے دونوں جانب بچے، ٹی ڈی پی کے زرد پرچم تھامے ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں