وزیراعظم پاکستان کی افغانستان آمد

پاکستان کے وزیراعظم آج ایک روزہ دورہ پر افغانستان پہنچے۔ سرکاری ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے کیلئے وہ افغانستان کے صدر مقام کابل پہنچے ہیں۔ شاہد خاخان عباسی کا افغانستان کے صدر اشرف غنی اور دوسروں نے کابل کے صدراتی محل میں شاندار استقبال کیا۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ دونوں قائدین کے درمیان بات چیت کی شروعات سے قبل شاہد خاخان عباسی کے دورہ کے موقع پر یہاں کے حکام نے ان کا پرتپاک استقبال کرتے ہوئے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ افغانستان کے حکام بھی پاکستان کے ساتھ تعلقات کو بہتر خواہاں ہے۔ دونوں ممالک توقع ہے کہ طالبان کی سرگرمیوں اور دوسرے امور کے تعلق سے بات چیت کریں گے تاکہ کشیدگی کو کم کرنے کی راہ ہموار ہوسکے۔ عباسی کے ساتھ پاکستان کے دوسرے کئی سرکردہ عہدیدار بھی آئے ہوئے ہیں۔ گذشتہ سال وزیراعظم کے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد یہ ان کا کابل کا پہلا دورہ ہے۔ وہ اپنے اس دورہ کے موقع پر افعانستان کے کئی قائدین اور عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کریں گے۔ یہ بات اشرف غنی کے ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے بتائی۔ واشنگٹن اور کابل کی جانب سے پاکستان پر یہ دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ طالبان اور دوسرے انتہا پسندوں کو دی جانے والی امداد روک دے۔ واشنگٹن کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جارہا ہے کہ پاکستان‘ انتہا پسندوں کا ایک محفوظ ٹھکانہ بن گیا ہے اور حکام کی جانب سے موثر کارروائی نہ کئے جانے کی وجہ سے طالبان اور دوسرے انتہا پسندوں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ افغانستان کی جانب سے یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ محض پاکستان کی پشت پناہی کی وجہ سے انتہا پسندوں کی سرگرمیاں جاری ہیں جبکہ پاکستان کا یہ ادعا ہے کہ وہ انتہا پسندوں کے خلاف مسلسل کارروائی کررہا ہے۔ طالبان اور دوسرے انتہا پسندوں کی سرگرمیوں کی روک تھام کیلئے موثر اقدامات کئے جارہے ہیں۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ طالبان کو بات چیت کیلئے راغب کرنا چاہیئے تاکہ وہ انتہا پسندی کو ترک کرتے ہوئے مشاورت کے ذریعہ تنازعہ کی یکسوئی کیلئے تیار ہوجائیں۔ کابل اور اسلام آباد کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات عائد کئے جاتے ہیں کہ وہ انتہا پسندوں کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور انہیں سرگرمیاں جاری رکھنے کیلئے اپنے علاقہ میں سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم نے کہا ہے کہ وہ اپنے دورہ افغانستان کے موقع پر یہاں کے قائدین کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی کی راہ ہموار کریں گے کیونکہ طالبان کی سرگرمیوں کی وجہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوتی جارہی ہے۔

جواب چھوڑیں