پارلیمنٹ اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی

پارلیمنٹ کے دونوں ایوان آج غیرمعینہ مدت کے لئے ملتوی ہوگئے۔ رکنے کا نام نہ لینے والے احتجاج نے بجٹ اجلاس کے دوسرے اور آخری مرحلہ کو عملاً ضائع کردیا۔ لگ بھگ 250کام کاج کے گھنٹے رائیگاں گئے۔ حکومت کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد لوک سبھا میں پیش نہیں ہوسکی کیونکہ مختلف جماعتوں کا احتجاج جاری تھا۔ آندھراپردیش کو خصوصی موقف‘ بینک اسکام‘ کاویری واٹر مینجمنٹ بورڈ کا قیام ‘ مجسموں کا انہدام‘ ایس سی / ایس ٹی ایکٹ میں نرمی اور اترپردیش کے خاص گنج میں نظم وضبط کی صورتحال جیسے مسائل پر احتجاج ہوا۔ پارلیمنٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ 5 مارچ کو شروع ہوا تھا اور 22 بیٹھکیں درہم برہم ہوئیں۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے اپنی سمری رپورٹ میں کہا کہ 29 بیٹھکوں میں 34 گھنٹے 5 منٹ کام ہوا۔ 127 گھنٹے اور 45 منٹ رائیگاں گئے۔ ایوان ِ زیریں میں لگ بھگ 9 گھنٹے 47 منٹ سرکاری کام ہوا۔ صرف 5 بل منظور ہوئے۔ وزیراعظم نریندر مودی آج ایوان میں موجود تھے۔ ایوان ِ بالا راجیہ سبھا میں تین چوتھائی وقت رائیگاں گیا۔ یو این آئی کے بموجب بی جے پی اور کانگریس کی ایک دوسرے پر الزام تراشی کے درمیان بجٹ اجلاس کا دوسرا مرحلہ رائیگاں گیا۔ حکومت نے جمعہ کے دن کہا کہ لوک سبھا میں صرف 4 فیصد کام ہوا اور راجیہ سبھا میں صرف 8 فیصد کام ہوا۔ 5 مارچ تا 6 اپریل 22 بیٹھکیں ہوئیں۔ بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ 29 جنوری کو شروع ہوا تھا ۔ پہلے مرحلہ میں 7 بیٹھکوں میں لوک سبھا میں 134 فیصد کام ہوا تھا۔ راجیہ سبھا میں 8 بیٹھکوں میں 96 فیصد کام ہوا تھا۔ بجٹ اجلاس کے دوسرے نصف حصہ میں راجیہ سبھا میں صرف ایک بل منظور ہوا۔ ایوان ِ بالا میں انسداد رشوت ستانی(ترمیمی) بل 2013 پیش نہ ہوسکا۔ دونوں ایوانوں نے بین الاقوامی یوم ِ خواتین منایا۔ ایوان ِ بالا نے اپنے 62 ارکان کو وداعی دی۔ 56 نئے ارکان نے حلف لیا جن میں بعض کی واپسی ہوئی ہے۔ دونوں ایوانوں کو 9 فروری تا 4 مارچ چھٹیاں دی گئی تھیں۔

جواب چھوڑیں