پارلیمنٹ میں تعطل کیخلاف بی جے پی کا 12 اپریل کو برت

وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن پر تقسیم کی سیاست کا الزام عائد کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں تعطل پیدا کرنے کے خلاف بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ بطورِ احتجاج 12؍ اپریل کو برت رکھیںگے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ کو چلنے نہ دینے کی ذمہ دار کانگریس ہے۔ وزیر اعظم نے بی جے پی کے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں کہا کہ حکمران پارٹی مشمولاتی سیاست پر عمل پیرا ہے، جب کہ اپوزیشن ، زعفرانی پارٹی کی بڑھتی طاقت کی وجہ سے تقسیمی اور منفی سیاست کررہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی جانب سے دلتوں کے احتجاج پر حکومت کو نشانہ بنائے جانے پر مودی نے کہا کہ بی جے پی کے ارکانِ پارلیمنٹ اور دیگر قائدین ایس سی اور ایس ٹی کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی والے 20,844 مواضعات میں 14 اپریل اور 5 مئی کے درمیان شب بسری کریںگے، تاکہ ان افراد کی بہبود کے مقصد سے مرکز کے اٹھائے گئے مختلف اقدامات سے انہیں واقف کرایا جائے۔ پارٹی ’’سب کا ساتھ سب کا وکاس یاترا‘‘ بھی نکالے گی۔ مرکزی وزیر اننت کمار نے یہ بات رپورٹرس کو بتائی ۔ آج جب کہ بی جے پی اپنا 38واں یومِ تاسیس منا رہی ہے ، مودی نے کہا ہے یہ عوام کے آشیرواد اور اس کے ورکرس کی انتھک کوششوں کی وجہ سے سب سے بڑی پارٹی بنی ہے۔ انہوں نے پارٹی کے کئی آنجہانی قائدین اور ورکرس کو خراجِ عقیدت بھی پیش کیا ۔ انہوں نے کہا کہ یومِ تاسیس ان کے نام معنون ہے جنہوں نے پارٹی کی ترقی کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دی ہے۔ یو این آئی کے بموجب جمعہ کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کیے جانے کے بعد حکومت نے بجٹ سیشن کے دوسرے حصہ کے واش آؤٹ کا الزام کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت پر عائد کیا ہے۔ مرکزی وزیر پارلیمانی امور اننت کمار نے اعلان کیا کہ اپوزیشن پارٹیوں بالخصوص کانگریس کی جانب سے ایوان کی کارروائی ٹھپ کردینے کے مسئلہ سے عوام کو واقف کرانے کے لیے بی جے پی ارکانِ پارلیمنٹ 12 اپریل کو برت رکھیںگے۔ انہوں نے پہلے ہی 22 دنوں کے لیے اپنی تنخواہ اور روزانہ کا الاؤنس بھی نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس عرصہ میں راجیہ سبھا میں کارروائی صرف 8 فیصد چلی ، جب کہ بجٹ سیشن کے پہلے حصہ میں یہ 96 فیصد تھی۔ کانگریس پارٹی اور اس کی قیادت پر شدید حملہ کرتے ہوئے انہوں نے بجٹ سیشن کے دوسرے دور کی ناکامی کا مساوی طور پر کانگریس پارٹی پر الزام عائد کیا ۔ اننت کمار نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ بات بڑی بدبختانہ ہے کہ جس پارٹی نے 55 سال تک ملک پر حکومت کی ، اس نے منفی سیاست کی عکاسی کی اور رائے عامہ جو بی جے پی اور این ڈی اے کے حق میں ہے اس میں عدم رواداری برتی ۔ سیشن کے دوسرے حصہ کے دوران لوک سبھا نے فینانس بل 2008ء ، تصرفات بل بابت چوتھے ضمنی مطالبات برائے گرانٹس 2017-18 اور وزارتوں ؍ محکموں کے لیے گرانٹس کے مطالبات کو منظور کیا ، تاہم یہ اہم بلز ایوان بالا میں پیش نہیں کیے جاسکے ، کیوںکہ وہاں پہلے دن سے ہی ایوان کی کارروائی ٹھپ رہی ۔ قواعد کے بموجب ان بلز کو ان کے وصول ہونے کے اندرونِ 14 دن 28 مارچ کو راجیہ سبھا میں منظور ہونا ضروری ہے۔ راجیہ سبھا میں صرف ایک بل پے منٹس آف گریجویٹی (ترمیمی) بل 2018 منظور ہوسکا۔ کمار نے بتایا 5 مارچ کو جب سیشن کا آغاز ہوا اس وقت ایوان کے وسط میں کوئی نہیںتھا۔ لوک سبھا میں بینکنگ دھوکہ دہی پر مباحث کے لیے کانگریس کی نوٹس کو اسپیکر نے قبول کیا ، پھر بھی اس پارٹی نے ایوان میں خلل اندازی کی ۔ پارٹی کی تحریک ِ عدمِ اعتماد کی نوٹس 27 مارچ کو آئی ، جب کہ وائی ایس آر کانگریس پارٹی اور تلگو دیشم پارٹی کی جانب سے کئی نوٹسیں دی جاچکی تھیں۔ اتنے عرصہ میں وہ کیا کررہے تھے۔ وہ نوٹس کے ساتھ اس لیے نہیں آئے کیوںکہ وہ اس کے لیے سنجیدہ نہیں تھے۔ ہم کانگریس سے پوچھتے ہیں کہ بینک دھوکہ دہی پر مباحث کے لیے ان کی ابتدائی نوٹس میں انہوں نے تبدیلی کیوں کی ۔ انہوں نے 5 مارچ اور 27 مارچ کے درمیان تحریک ِ عدمِ اعتماد کی نوٹس کیوں پیش نہیں کی اور علاقائی پارٹیوں کے پیچھے آئے ۔ انہوں نے موافق عوام بلوں پر تعاون کیوں نہیں کیا۔ وہ ہماری جانب سے بجٹ سیشن کے دوسرے حصہ کے دنوں کی تنخواہیں اور الاؤنس چھوڑ دینے پر کیوں اعتراض کررہے ہیں۔ انہوں نے بھی ایسا کیوں نہیں کیا۔

جواب چھوڑیں