پرنب مکرجی کی کتاب کا مسئلہ‘ جج سماعت سے علیحدہ

دہلی ہائی کورٹ کی ایک جج نے آج خود کو اُس مقدمہ کی سماعت سے علیحدہ کرلیا جس میں سابق صدرجمہوریہ پرنب مکرجی کی 2016 میں منظرعام پر آئی کتاب سے 1992 کے بابری مسجد انہدام سے متعلق حوالے حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ حذف کرنے کی بات اس بنیاد پر کی گئی تھی کہ ان حوالوں سے ہندو جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ کوئی وجہ بتائے بغیر جسٹس پرتیبھا ایم سنگھ نے کہا کہ کارگذار چیف جسٹس کے حکم سے اس معاملہ کو کسی اور بنچ سے رجوع کیا جائے۔ وکیلوں کا ایک گروپ اور ایک سماجی کارکن ‘ کتاب ٹربولینٹ ایئرس 1980-1996 کے خلاف عدالت سے رجوع ہوئے تھے۔ وکیل وشنو شنکر جین نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ سہ پہر 3:15 بجے جج نے انہیں اپنے چیمبر میں بلایا اور کہا کہ وہ خود کو اس معاملہ سے الگ کررہی ہیں۔ انہوں نے اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی۔ معاملہ کی سماعت ابتدا میں 30 جولائی کو ہونی تھی لیکن اب یہ 9 اپریل کو ایک اور بنچ پر جائے گا۔ جج نے صبح معاملہ کی سماعت کی اور پرنب مکرجی کو زبانی نوٹس جاری کی۔ چند گھنٹے بعد انہوں نے خود کو معاملہ سے علیحدہ کرلیا۔ عدالت نے گذشتہ برس ستمبر میں تحت کی عدالت سے ریکارڈ طلب کیا تھا کیونکہ درخواست گذاروں نے تحت کی عدالت کے 30 نومبر 2016 کے احکام کے خلاف اپیل کی تھی۔ تحت کی عدالت نے اُس وقت کے صدرجمہوریہ کی کتاب سے بعض حصے حذف کرنے کی ان کی درخواست مسترد کردی تھی۔ درخواست گذاروں کے وکیل نے تحت کی عدالت سے کہا تھا کہ صدرجمہوریہ کے خلاف ان کے دورِ صدارت میں دیوانی مقدمہ ان کے کسی بھی ایسے امر کے خلاف دائر ہوسکتا ہے جو انہوں نے نجی حیثیت سے کیا ہو۔

جواب چھوڑیں