شامی فورسز کے غوطہ میں تازہ حملے ‘متعدد افراد ہلاک

شام کی سرکاری فورسز نے مشرقی غوطہ میں باغیوں کے زیر تسلط آخری علاقے میں زمین اور فضائی کارروائیاں شروع کر دی ہیں جس میں مبصرین کے مطابق کم از کم 40 افراد مارے گئے ہیں۔سرکاری ٹیلی ویڑن پر غوطہ کے سب سے بڑے شہر دوما کے مختلف حصوں سے دھوئیں کے سیاہ بادل اٹھتے دکھائی گئے اور کہا گیا کہ ریپبلکن گارڈ فورسز علاقے میں داخل ہو رہی ہیں جہاں جیش الاسلام نامی باغی گروپ نے آماجگاہ بنا رکھی تھی۔یہ لڑائی ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب غوطہ میں بعض دیگر باغی گروپوں نے ایک معاہدہ منظور کرتے ہوئے حلب کے شمال مشرقی علاقوں تک جانے کے لیے محفوظ راستہ قبول کیا ہے۔روس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جیش الاسلام نے غوطہ سے نکلنے کے لیے ایک معاہدہ قبول کیا ہے۔ تاہم گروپ میں انخلا پر اختلاف کے باعث یہ عمل تعطل کا شکار ہوا۔شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم ‘سریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس’ کے مطابق جمعہ کو غوطہ میں ہونے والی کارروائی کے دوران آٹھ بچے بھی ہلاک ہوئے۔تنظیم کے بقول بعض فضائی حملوں میں بظاہر روسی لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا جب کہ شہر کے مختلف حصوں میں درجنوں فضائی حملے کیے گئے۔شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ‘ثنا’ کا کہنا ہے کہ جیش الاسلام نے دارالحکومت دمشق کے قریب مارٹر گولے داغے جس میں چار افراد ہلاک ہوئے۔ باغیوں کے ایک ترجمان نے اس الزام کی تردید کی ہے۔اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفاں ڈوجارک نے دوما میں شروع ہونے والی لڑائی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ کے مطابق جمعہ کے رعوز دمشق کے مشرقی علاقے الغوطہ میں دوما کے مقام پر شامی فوج کے جنگی طیاروں نے بمباری کرکے کم سے کم 40 عام شہریوں کو موت کیگھاٹ اتار دیا۔ مرنے والوں میں پانچ بچے بھی شامل ہیں۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق دوما کے علاقے میں اسدی فوج اور باغیوں کیدرمیان گھمسان کی لڑائی جاری ہے۔ اپوزیشن کی حامی فورسز نے اسد رجیم کے حملوں کے جواب میں شدید فائرنگ کی ہے۔اپوزیشن کی حامی جنگجو تنظیم ’جیش الاسلام‘ کے ایک عہدیدار محمد علوش نے بتایا کہ بزدل اسدی فوج دوما میں شہری آبادی کو نشانہ بنا رہی ہے۔واضح رہے کہ اسدی فوج اور جیش الاسلام کے درمیان لڑائی کے ساتھ ساتھ فریقین میں شہریوں کے انخلاء کے لیے بات چیت بھی جاری ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جیش الاسلام کی سرکردہ قیادت اسدی فوج کے ساتھ کسی ڈیل پر متفق نہیں ہوسکی۔

جواب چھوڑیں