غزہ میں اسرائیلی فورسس کی فائرنگ۔ صحافی کے بشمول مہلوکین کی تعداد10 تک پہنچ گئی‘ دیگر500 زخمی

فلسطین کے محکمہ صحت کا کہنا ہے کہ مظاہرین اور اسرائیلی فورسز کے درمیان غزہ اور اسرائیل کی سرحد پر جھڑپوں کے نتیجے میں مزید ۱۰ فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔حکام نے 1300 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔دوسری جانب اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے مظاہرین پر گولی اس وقت چلائی جب انھوں نے سرحد کی خلاف ورزی کی۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے اسی طرح کی جھڑپوں میں 16 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ان مہاجرین کو اپنی آبائی زمینوں پر واپس آنے کی اجازات دی جائے جو اب اسرائیل کا حصہ ہیں۔لیکن اسرائیل کا کہنا ہے عسکریت پسند گروپ حماس حملے کرنے کے لیے یہ ریلیاں نکال رہا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ سپاہیوں کو گولی چلانے کے بارے میں دیا گیا حکم بین الاقوامی تنقید کے باوجود تبدیل نہیں کیا گیا ہے۔اس سے قبل امریکہ نے فلسطینیوں سے کہا تھا کہ وہ پرامن احتجاج کریں اور غزہ اور اسرائیل کی سرحد سے 500 میٹر دور رہیں۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق امریکہ کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب جمعہ کو فلسطینی نئے مظاہروں کے لیے تیار تھے۔امریکہ کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سفیر جیسن گرینبلیٹ نے دیا ہے۔بیان میں انھوں نے کہا ’امریکہ مظاہرے کرنے والے رہنماؤں سے استدعا کرتا ہے کہ وہ سب کو صاف صاف بتا دیں کہ احتجاج پرامن ہو اور کسی قسم کے تشدد سے اجتناب کریں۔‘انھوں نے مزید کہا تھا کہ ’مظاہرین غزہ اور اسرائیل کی سرحد کے قریب 500 میٹر کے بفر زون سے باہر رہیں اور کسی بھی صورت میں سرحد کے قریب نہ جائیں۔ ہم ان رہنماؤں اور مظاہرین کی مذمت کرتے ہیں جو مظاہرین بشمول بچوں کے کو سرحد کے قریب جانے کا یہ جانتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ زخمی یا ہلاک ہو سکتے ہیں۔‘فلسطینی وزارت صحت نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں غزہ سے تعلق رکھنے والے صحافی یاسر مرتضی بھی شامل ہیں۔جمعے کو ہزاروں مظاہرین اسرائیل اور غزہ کے 65 کلومیٹر طویل باڈر کے پانچ مقامات پر اکھٹے ہوئے۔ مظاہرین نے بڑی تعداد میں ان مقامات پر ٹائر جلائے تاکہ اس کے دھویں سے سرحد پار موجود اسرائیلی فوجی انھیں باآسانی نشانہ نہ بنا سکیں۔فلسطین میں گزشتہ دور روز کے دوران اسرائیلی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں شہید فلسطینیوں کی تعداد 10 ہوگئی ہے جب کہ اس میں ایک صحافی بھی شامل ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فلسطینیوں کے لانگ مارچ کے خلاف اسرائیلی فوج کی کارروائی میں تیزی ا?گئی ہے۔ گزشتہ روز اسرائیلی بربریت کا نشانہ بننے والے افراد میں مزید 5 فلسطینی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ شہید ہونے والوں میں ایک صحافی یاسر مرتضی بھی شامل ہیں جو اسرائیل سرحد پر اپنی صحافتی ذمہ داریاں نبھا رہے تھے۔فلسطین کی وزارت صحت کے مطابق جمعے کے روز اسرائیلی فوج کی اندھی گولیوں کا نشانہ بننے والے فلسطینی مظاہرین کو قریبی اسپتال میں طبی امداد دی جا رہی تھی تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔ شہید ہونے والوں میں صحافی یاسر بھی شامل ہیں جنہیں کل پیٹ میں گولی لگنے کے سبب اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ ایک ہفتے سے جاری لانگ مارچ میں شامل 32 مظاہرین کو شہید کیا چکا ہے جب کہ 2 ہزار کے قریب زخمی زیر علاج ہیں۔

جواب چھوڑیں