ملک میں خوف اور عدم رواداری کا ماحول: کانگریس

کانگریس موجودہ سیاسی صورتحال اور ملک میں عدم اعتماد اور عدم رواداری کے موجودہ ماحول کیخلاف 29اپریل کو یہاں رام لیلا میدان میں احتجاجی ریالی منظم کرے گی۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اشوک گہلوٹ نے آج یہ بات بتائی اور کہاکہ ملک میں این ڈی اے کے چارسالہ دور حکومت کے بعد سماج کے ہر طبقہ کو اپنا دم گھٹتا محسوس ہورہا ہے۔ انہوںنے نامہ نگاروں کو بتایاکہ ملک میں ہر جگہ خوف ‘ عدم اعتماد اور عدم رواداری کا ماحول پایاجاتا ہے ۔ اس صورتحال کے پیش نظر کانگریس نے 29اپریل کو دہلی کے رام لیلا میدان میں ریالی منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ گہلوٹ نے کہاکہ پارٹی صدر راہول گاندھی نے ہمیشہ یہ مانا ہے کہ جمہوری سیاست ‘ محبت‘ امن اور ہمدردی کے ساتھ کی جاتی ہے جبکہ مودی حکومت ملک کے جمہوری کلچر کو کمزور کررہی ہے۔ این ڈی اے کے برسراقتدار آنے کے بعد سے گذشتہ چارسال کے دوران صرف جھوٹے وعدے کئے گئے۔ کسی نے بھی یہ محسوس نہیں کیا کہ اچھے دن آگئے ہیں۔ اسی دوران پنجی سے موصولہ یواین آئی کی اطلاع کے بموجب آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کی جانب سے منظم کئے جانے والے ملک گیر احتجاجی برت کے ایک حصہ کے طورپر گوا پردیش کانگریس کمیٹی نے آج اعلان کیا کہ وہ 9اپریل کو ایک برت کا اہتمام کرے گی تاکہ مختلف طبقات میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا جاسکے۔ یہ برت شہر کے آزاد میدان میں منعقد کیا جائے گا۔ گوا پردیش کانگریس کمیٹی اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی کا ایک اجلاس سی ایل پی لیڈر چندرکانت کائولیکر ‘ جی پی سی سی صدر شانتا رام نائک کی موجودگی میں شہر میں واقع کانگریس ہائوز میں منعقد ہوا۔ نائک نے الزام عائد کیا کہ بی جے پی قائدین انتہائی قابل اعتراض فرقہ وارانہ خطوط پر ملک میں پھوٹ ڈالنے کمربستہ ہیں۔ اس معاملہ میں بی جے پی کے مرکزی وزراء رول ادا کررہے ہیں۔ نائک نے کہاکہ بی جے پی کے ایک رکن پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے کہاہے کہ ہندو مہیلائوں (خواتین) کو کم از کم 4بچے پیدا کرنا چاہئے تاکہ ملک میں ہندئوں کی آبادی میں اضافہ کیا جاسکے۔ نائک نے کہا کہ بی جے پی کی ایک وزیر نرنجن جیوتی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ رام زادوں (رام کے بچوں) اور حرام زادوں(ناجائز بچے) کے درمیان کسی ایک کو چن لیں۔ ایک اور بی جے پی وزیر نے کہاہے کہ جو لوگ نریندرمودی کے مخالف ہیں وہ پاکستان چلے جائیں ۔ کچھ عرصہ قبل جب سادھوی سرسوتی گوا آئی تھیں تو انہوںنے جلسہ عام میں تقریر کرتے ہوئے کہاتھا کہ جو لوگ گائے کا گوشت کھاتے ہیں انہیں چوراہے پر کھڑا کر کے کوڑے لگائے جانے چاہئے اور ان کا گوشت عوام کے سامنے پھینک دیا جانا چاہئے تاکہ گوا میں کوئی بیف کھانے کی ہمت نہ کرسکے ۔نائک نے دعویٰ کیا کہ وشواہندوپریشد کے لیڈر پروین توگڑیہ نے اولڈ مارڈول‘ گوا میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ دیوی مہالسا نے راہو اور کیتو کو ہلاک کیا تھا لیکن وہ عیسائی اور مسلمانوں کے طورپر دوبارہ پیدا ہوگئے ہیں۔ اب انہیں ختم کرنا ہوگا۔ کائولیکر نے الزام لگایا کہ بی جے پی ایک تقریبی طاقت ہے اور وہ اس وقت تک مطمئن نہیں ہوسکتی جب تک کہ سماج میںگڑ بڑ نہ پیدا کرے۔

جواب چھوڑیں