بیوی ‘ شوہر کی ذاتی ملکیت نہیں: سپریم کورٹ

 سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بیوی ذاتی ملکیت یا کوئی شئے نہیں ہے۔ شوہر اسے اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔ سپریم کورٹ نے یہ بات ایک خاتون کے معاملہ کی سماعت کرتے ہوئے کہی جس نے اپنے شوہر کے خلاف فوجداری مقدمہ دائر کیا تھا۔ اس نے الزام عائد کیا تھا کہ اس پر ظلم ہورہا ہے اور وہ شوہر کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی جب کہ شوہر کا کہنا ہے کہ وہ اس کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ جسٹس مدن بی لوکر اور جسٹس دیپک گپتا پر مشتمل بنچ نے شوہر سے جو کمرہ عدالت میں موجود تھا کہا کہ بیوی ذاتی ملکیت نہیں ہے آپ اسے اپنے ساتھ رہنے پر مجبور نہیں کرسکتے۔ وہ آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ آپ اس کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ وہ واضح طور پر کہ چکی ہے کہ وہ آپ کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ بنچ نے شوہر کے وکیل سے کہا کہ یہ شخص اتنا ناسمجھ کیسے ہوسکتا ہے وہ بیوی سے ذاتی ملکیت کی طرح پیش آرہا ہے۔ بیوی کوئی شئے نہیں ہے۔ شوہر کے وکیل نے بتایا کہ وہ اپنے مؤکل کو سمجھانے کی کوشش کرے گا۔ اسی دوران عورت کے وکیل نے بنچ سے کہا کہ وہ ظلم و زیادتی کی بنیاد پر طلاق چاہتی ہے۔ وکیل نے کہا کہ ہم 498A کیس واپس لینے کو تیار ہیں۔ ہمیں کوئی نان و نفقہ یا معاوضہ بھی نہیں چاہیے۔ عورت مرد کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ عدالت نے قبل ازیں یہ دیکھتے ہوئے دونوں میاں بیوی تعلیم یافتہ ہیں صلح صفائی کے لئے معاملہ بھیجا تھا لیکن بات نہیں بنی۔

جواب چھوڑیں