جماعت الدعوۃ اور دوسری دہشت گرد تنظیموں پر مستقل امتناع ‘ پاکستان کا غور

پاکستان کی جانب سے ممبئی حملہ کے اصل سازشی خافظ سعید کی زیر قیادت جماعت الدعوۃ پر مستقل امتناع کے تعلق سے جائزہ لیا جارہا ہے۔ ڈان نے آج یہاں یہ بتائی اور کہاکہ حکومت پاکستان ایک مسودہ بل کو پیش نظر رکھتے ہوئے کام کررہی ہے تاکہ حافظ سعید کی تنظیم کے علاوہ دوسرے دہشت گرد گروپ اور افراد پر مستقل امتناع عائد کرنے کی راہموار ہوسکے جوکہ وزارت داخلہ کی واچ لسٹ میں شامل ہیں۔ حکومت کی اس طرح کی کوشش کو طاقتور فوجی حکام کی بھی تائید حاصل ہے۔ اخبار ڈان نے آج یہاں اس بات کی اطلاع دی اور کہاکہ یہ بل صدارتی آرڈیننس کی جگہ رہے گا۔ جس کے تحت دہشت گرد تنظیموں پر امتناع عائد کیا جانے کی راہموار کی گئی ہے۔ وزارت قانون کے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اخبار نے اطلاع دی ہے کہ مجوزہ مسودہ بل کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ ( ATA)1997میں ترمیم کی راہموار کی جاسکے گی اوریہ بل امکان ہے کہ قومی اسمبلی کے سیشن میں پیش کیا جائے گا جس کا کل سے آغاز ہورہا ہے۔ وزارت قانون کی اس کوششوں کو بتایاجاتا ہے کہ فوجی حکام کی بھی تائید حاصل رہے گی۔ پاکستان میں کئے جانے والے پالیسی فیصلوں میں طاقتور فوجی ادارے کو قابل لحاظ اہمیت حاصل ہے اور یہ اثر ورسوخ بھی رکھتا ہے۔ حکومت نے مسودہ بل کی تیاری کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ (اے ٹی اے) میں ترمیم کی جاسکے۔ امریکہ ‘ برطانیہ‘ فرانس اور جرمنی کی جانب سے پاکستان پر دبائو ڈالا جارہا ہے کہ وہ دہشت گردوں کیخلاف موثر کارروائی کرے تاکہ ان کے عزائم کو ناکام بنایاجاسکے۔ دہشت گردوں کو فنڈ کی فراہمی کا بھی الزام عائد کیا جارہا ہے۔ قبل ازیں صدر مامون حسین نے آرڈیننس کا نفاذ عمل میں لایا تھا تاکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ ( اے ٹی اے) میں ترمیم کی جاسکے۔ قومی اسمبلی کی پیشکشی کے بعد مزید چار ماہ کیلئے اس میں توسیع کرسکتی ہے جبکہ یہ مسودہ بل دونوں ایوانوں قومی اسمبلی اور سینٹ میں پیش کیا جائے گاتاکہ اس میں مزید توسیع کی جاسکے۔ حافظ سعید کا نام اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267دسمبر 2008 کی فہرست میں شامل ہیں ۔ جماعت الدعوۃ کے تعلق سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ بمبئی میں کئے گئے حملہ کی اصل محرک اور ذمہ دار ہے جس میں 166افراد ہلاک ہوگئے جس کے بعد جون 2014میں امریکہ کی جانب سے اس کو ایک بیرونی دہشت گردتنظیم قرار دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے خصوصی مددگار بیرسٹر ظفر اللہ خان سے ربط پیدا کے جانے پر انہوںنے کہاکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ( اے ٹی اے) میں ترمیم وزارت داخلہ کا معاملہ ہے۔ انہوںنے مزید کہاکہ قانون کوئی نئی دفعہ پیش نہیں کرے گا۔

جواب چھوڑیں