روہنگیائی پناہ گزینوں کی میانمار واپسی کے لیے حالات ساز گار نہیں :اقوام متحدہ

اقوام متحدہ ذرائع نے بتایا کہ میانمار کے بحران زدہ شمالی راکھین ریاست کے حالات روہنگیاؤں کو بنگلہ دیش سے واپس لانے کے لیے سازگار نہیں ہے ۔ عالمی ادارہ کا یہ بیان میانمار کے اس بیان کے مغائر ہے جس میں اس نے بتایا کہ وہ واپس آنے والوں کے استقبال کے لیے تیار ہے ۔ خونریز فوجی کاروائی جس میں متعدد مواضعات کو نذر آتش کردیاگیاتھا ‘ اس کے بعد اگست سے تقریباً7لاکھ روہنگیائی مسلمان سرحد پار فرار ہوئے ہیں۔ پناہ گزینوں کاالزام ہے کہ میانمار کی مسلح افواج نے قتل اور عصمت ریزی واقعات کا ارتکاب کیاہے ۔ فوج ان الزامات کی تردید کررہی ہے اور اپنی مہم 25 اگست کو ہوئے روہنگیائی عسکریت پسندانہ حملوں پر قانونی رد عمل قراردے رہی ہے جبکہ ان حملوں میں تقریباً12 سرحدی حفاظتی پولیس ملازمین ہلاک ہوئے تھے ۔ میانمار اور بنگلہ دیش نے نومبر میں باز آبادکاری سمجھوتہ پر دستخط کی تھی لیکن کوئی بھی پناہ گزین وہاں واپس نہیں ہواہے ۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے تا میل انسانی امور کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل نے بتایا کہ اس وقت رضاکارانہ باوقار اور باتسلسل واپسی کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔ 6 روزہ دورہ جس میں انہوں نے شمالی راکھین کا دورہ کیاتھا اس کے اختتام پر اے ایف پی سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ضرورت ہے کہ میانمار ‘نقل و حرکت کی آزادی ‘سماجی اتحاد ‘اخوت اور خدمات تک رسائی جیسے اہم مسائل پر توجہ کرے ۔ کئی سالوں تک بے وطن مسلم اقلیت کو بنگلہ دیشی تارکین وطن سمجھاجاتاہے جبکہ وہ نسلی امتیاز جیسے حالات پر زندگی گذارنے پر مجبور تھے ۔ ان کی نقل وحرکت پر سخت تحدیدات عائد کردی گئیں تھیں ۔تعلیم اور نگہداشت جیسے شعبوں کے لیے ان کے اختیارات محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ میانمار نے اس بات کا کئی مرتبہ اعادہ کیا کہ اس نے روہنگیائی مسلمانوں کو واپس قبول کرنے کے لیے کام کی تکمیل کرلی ہے ۔ راکھین میں باز آبادکاری پر کام کرنے والی سرکاری تائیدی تنظیم کے کلیدی عہدیدار رابطہ اونگ آنگ نے بتایا کہ ہم تیار ہیں ۔ عمارتیں بھی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ ہاسپٹلس او رکلینکس بھی تیار ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم جو کچھ کرسکتے تھے ہم نے کیاہے ۔ اگر وہ یعنی روہنگیائی پناہ گزین خود کو محفوظ نہ سمجھتے ہوں تو ہم اور کچھ نہیں کرسکتے ہیں۔ اپنے دورہ کے موقع پر ملرنے ان روہنگیائی مسلمانوں سے بات چیت کی جو افسوسناک صورتحال جیسے کیمپس اور راکھین میں محدود ہیں۔

جواب چھوڑیں