سعودی ولیعہد محمد بن سلمان کی فرانس میں آمد

سعودی ولعیہد آج اپنے عالمی دورہ کے اگلے حصہ کے طور پر فرانس پہنچ رہے ہیں جس کامقصد ان کی مملکت کے سخت گیر ہونے کی شبیہہ کی سمندر پار دوبارہ صورت گری کی جائے ۔وہ قدامت پسند تیل کی دولت سے مالا مال مملکت میں اصلاح کے خواہاں ہیں ۔ صدر ایمونیل میکرون کو کل سے شروع ہونے والے محمد بن سلمان دوروزہ سرکاری دورہ کے موقع پر سخت سفارتی صورتحال کا سامنا ہوگا ۔ اس دورہ میں ثقافتی روابط ‘سرمایہ کاروں اور یمنی جنگ پر توجہ مرکوز کی جائے گی ۔ جبکہ یمنی جنگ کو عالمی سطح پر بدترین انسانی بحران قرار دیاجارہاہے ۔ بعدازاں وہ امریکہ ‘برطانیہ اور مصر کا دورہ کریں گے جہاں وہ دفاع سے لے کر تفریح شعبہ تک کروڑہا ڈالر مالیاتی سمجھوتوں کو قطعیت دینے کی کوشش کریں گے ۔ توانائی ‘زراعت ‘سیاحت اور ثقافت نے تقریباً14 مفاہمتی یاداشتیں فرانس اور سعودی تنظیموں کے درمیان دستخط کے لیے تیار ہیں۔ ولعیہد کے وفد کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کویہ بات بتائی۔آثار قدیمہ باقیات سے مالا مال سعودی شہر الاولا کو فروغ دینے فرانس اور سعودی عرب کے درمیان تعاون سمجھوتہ ہوگا ۔ علاوہ ازیں یہ کاروائی توقع ہے کہ ان کے دورہ کا سب سے اہم فرانسیسی صدر ‘وزیراعظم اور تجارتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقات کے علاوہ سعودی تخت کے وارث پیرس کے ٹکنیکل شروعاتی کیمپس اسٹیشن ایف اور جنوبی صوبہ ایلکس این کے دورہ پر غور کررہے ہیں۔ ذرائع نے یہ بات بتائی۔ وفد کے قریبی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا کہ ان کا یہ دورہ روایتی سرکاری دورہ نہیں بلکہ یہ دورہ صرف معاملتوں کے لیے نہیں بلکہ فرانس کے ساتھ نئی شراکت داری کے قیام سے مربوط ہیں۔ میکرون کے آفس کے ذرائع نے بتایا کہ اس دورہ میں ڈیجیٹل معیشت اور قابل تجدید توانائی میں سرمایہ کاریوں پر توجہ مرکوز ہوگی جبکہ تیل کی دولت سے مالا مال مملکت مختلف شعبوں میں اپنی سرگرمیوں کی شروعات کے لیے اس شعبہ میں لاکھوں ڈالرس کی سرمایہ کاری کررہی ہے ۔ پرنس محمد چاہتے ہیں کہ اس بات کااظہار کیاجائے کہ سعودی عرب کاروبار کے لیے کھلا ہے ۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے پروفیسر برناڈ ہیکل نے اے ایف پی کو یہ بات بتائی۔ وہ سعودی عرب کو مغرب کے لیے ایک حکمت عملی اور کاروباری شراکت دار کی حیثیت سے پیش کرناچاہتے ہیںاور ساتھ ہی ساتھ اس علاقہ میں استحکام کی طاقت کی حیثیت سے اجاگر کرناچاہتے ہیںجبکہ یہ صورتحال اس کے حریف ایران کے مقابل ہوگی جسے وہ عدم استحکام کی طاقت قرار دیا ۔ سعودی تخت کے وارث کی حیثیت سے شہزادہ محمد پہلی مرتبہ فرانس کا دورہ کررہے ہیں۔ قبل ازیں ملک میں انہوں نے ایک ہنگامہ خیز وقت گذارا جبکہ اس دوران بڑے پیمانہ پر فوجی رد وبدل ہوا اور شاہی تطہیری کاروائی کی گئی ۔ پرنس ماضی کے حکمرانوں کے برعکس اس وقت اقتدار کو زیادہ مستحکم بناناچاہتے ہیں۔ 32 سالہ شہزادہ جو محمد بن سلمان ( ایم بی ایس ) کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنے عالمی دورہ کو اپنی اصلاحات کو اجاگر کرنے کے لیے استعمال کیا جس نے تاریخی اعتبار سے خواتین کی گاڑی چلانے اور سینماو جنسی امتزاجی موسیقی پروگرام پر امتناع کی برخواستگی بھی شامل ہے ۔انہوں نے کھلے عام عہد کیاتھاکہ وہ مملکت کو اعتدال پسند اسلام کی راہ پر گامزن کریںگے ۔

جواب چھوڑیں