شام میں سرکاری فورسس کا مشتبہ کیمیائی حملہ‘ زائد از100افراد ہلاک

مشرقی غوطہ میں کیے جانے والے والے مشتبہ کیمیائی حملے میں 100 سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں بچوں کی تعداد قابل لحاظ ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 500 سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ جرمن نیوز ایجنسی ڈی پی اے نے شام میں کام کرنے والی تنظیم چیئرٹی یونین آف میڈیکل کئیر اینڈ ریلیف آرگنائزیشن ( یو ایس او ایس ایس ایم) کے حوالے سے بتایا ہے کہ مشرقی غوطہ میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے میں ایک سو سے زائد افراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔ اس تنظیم کے ترجمان ایری ڈی سوزا کا جرمن نیوز ایجنسی سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ، ’’بڑی تعداد میں خواتین اور بچے بھی مارے گئے ہیں اور زخمیوں کی تعداد پانچ سو سے زائد ہے۔‘‘ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ علاقے سے کلورین کی بْو آ رہی ہے لیکن وہاں امدادی سرگرمیاں جاری رکھنے والوں کے مطابق ممکنہ طور پر سرین گیس استعمال کی گئی ہے کیوں کہ یہ بھاری ہونے کی وجہ سے نیچے بیٹھتی ہے۔ ان کے مطابق متاثرین میں زیادہ تر وہ لوگ شامل ہیں جو اندرون ملک ہی بے گھر ہو چکے ہیں اور تہہ خانوں میں چھپے ہوئے تھے۔ گیس کی کثافت کی وجہ سے یہ ہوا میں اوپر اٹھنے کی بجائے، تہہ خانوں میں داخل ہو گئی تھی۔امریکہ نے اس مشتبہ کیمیائی حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ یہ ایک کیمیائی حملہ تھا تو اس کی ذمہ داری روس پر بھی عائد کی جائے گی کیوں کہ وہ صدر بشار الاسد کی ’غیر مشروط‘ حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔دارالحکومت دمشق کے مضافات میں دوما مشرقی غوطہ کا وہ آخری ٹھکانہ ہے، جو باغیوں کے زیر کنٹرول ہے اور حکومت اسے اپنے زیر اثر لانا چاہتی ہے۔ صدر اسد کی حامی فورسس نے اس علاقے پر قبضہ کرنے کے لئے شدید بمباری کا تازہ سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ شام کے شہر دوما میں کم از کم 70 افراد زہریلی گیس کے حملے میں ہلاک ہو گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں نے یہ بات بتائی ۔ وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی تنظیم نے تہہ خانوں میں بیسیوں نعشوں کی تصویریں ٹوئٹر پر پوسٹ کی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ مہلوکین کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔اس سے قبل وائٹ ہیلمٹس نے مرنے والوں کی تعداد 150 بتائی تھی لیکن بعد میں وہ ٹویٹ ڈلیٹ کر دی گئی۔شامی حکومت نے کیمیائی حملے کی خبروں کو من گھڑت قرار دیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ ان ‘انتہائی پریشان کن’ اطلاعات کا جائزہ لے رہا ہے اور یہ کہ اگر ایسا ہوا ہے تو پھر روس کو اس مہلک کیمیائی حملے کا ذمہ دار سمجھنا چاہیے جو شامی حکومت کی حمایت میں لڑ رہا ہے۔محکمہ خارجہ نے کہا کہ حکومت کی اپنے ہی افراد پر کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔بے شمار شامیوں کو کیمیائی ہتھیار سے بہیمانہ طور پر نشانہ بنانے کی ذمہ داری بالآخر روس پر عائد ہوتی ہے۔حکومت مخالف تنظیم غوطہ میڈیا سینٹر نے کہا ہے کہ مبینہ گیس حملے میں ایک ہزار سے زیادہ لوگ متاثر اور زخمی ہوئے ہیں۔ اس نے الزام لگایا ہے کہ ایک سرکاری ہیلی کاپٹر نے بیرل بم گرایا جس میں سارین نامی اعصاب کو مفلوج کرنے والے عوامل موجود تھے۔دوما کو مشرقی غوطہ میں باغیوں کے قبضے والا آخری شہر کہا جاتا ہے اور اسے حکومتی افواج نے کئی ماہ سے محصور کر رکھا ہے۔علحدہ موصولہ اطلاع کے بموجب شام میں باغیوں کے ایک گروپ نے الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری فورسس نے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں زہریلی کیمیائی گیس کے حامل بیرل بم سے حملہ کیا جس سے درجنوں افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔لیکن اس دعوے کے سامنے آتے ہی شام کے سرکاری ٹی وی نے اس تردید کی اور کہا کہ مشرقی غوطہ کے باغی اپنے خاتمے کے قریب ہیں اس لیے وہ جھوٹی خبریں پھیلا رہے ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ نے ہفتہ کو کہا کہ شام کے شہر دوما میں مبینہ جوہری ہتھیاروں کے حملے میں بڑے پیمانے پر ہلاکتوں کی خبریں “ہولناک” ہیں اور اگر یہ ثابت ہو جاتا ہے تو یہ “بین الاقوامی برادری کی طرف سے فوری ردعمل کا تقاضا کرتا ہے۔

جواب چھوڑیں