طالبان کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر رضامند:افغان حکومت

 پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ افغانستان نے طالبان کے ساتھ معطل شدہ امن مذاکرات کو بحال کرنے کی پاکستانی پیشکش قبول کر لی ہے۔ انہوں نے یہ بیان اپنے دورہ افغانستان کے ایک دن بعد ہفتے کو دیا۔خبر رساں ادارے اے پی نے پاکستانی وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے حوالے سے بتایا ہے کہ کابل حکومت طالبان کے ساتھ معطل شدہ مذاکرات کی بحالی پر رضا مند ہو گئی ہے۔ ہفتے کے دن اسلام آباد میں انہوں نے کہا کہ سترہ سالہ افغان تنازعے کا حل جنگ سے نہیں ہو سکتا۔ عباسی نے جمعے کے دن اپنے دورہ افغانستان کے دوران کابل میں صدر اشرف غنی سے ملاقات کی تھی۔پاکستان نے طالبان کے بارے میں افغان صدر کے اس بیان کی تعریف کی ہے، جس میں اشرف غنی نے اس بنیاد پرست مذہبی گروہ کو بطور سیاسی پارٹی تسلیم کرنے کی پیشکش کی ہے۔طالبان نے اشرف غنی کے اس بیان پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ تاہم طالبان نے اپنے اس دیرینہ مطالبے کو دہرایا ہے کہ کابل حکومت سے امن مذاکرات سے قبل وہ واشنگٹن حکومت سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔پاکستان نے سن دو ہزار پندرہ میں کابل حکومت اور طالبان کے مابین پہلی مرتبہ براہ راست امن مذاکرات کی میزبانی کی تھی تاہم کابل کی طرف سے طالبان کے بانی رہنما ملا عمر کی ہلاکت کی خبر کے افشاء کے بعد یہ مذاکراتی سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔ ناقدین کے خیال میں افغان طالبان اور کابل حکومت کے مابین امن مذاکرات میں اسلام آباد حکومت اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

جواب چھوڑیں