غزہ میں کوئی معصوم فلسطینی نہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کا متنازعہ بیان

اسرائیلی وزیر دفاع ایرک زر لائبر مین نے بتایا کہ حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی میں کوئی بھی شخص معصوم نہیں ہے ۔یہ بیان 10 روزہ طویل احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد دیاگیا ہے جس میں 30 فلسطینی ہلاک ہوگئے تھے ۔ وزیر دفاع نے بتایا کہ ہر شخص کاحماس سے تعلق ہے اور ہر ایک حماس سے تنخواہ ملتی ہے ۔ وہ تمام کارکن جو ہمیں چیالنج کرناچاہتے ہیں اور سرحد کی خلاف ورزی کرناچاہتے ہیں وہ حماس کے اکثریت پسند شعبہ کے کارکن ہیں۔ اسرائیل کو غزہ پٹی سرحد پر 10 روزہ طویل احتجاجی مظاہروں اور جھڑپو ں کے بعد فائرنگ کے استعمال پر بڑھتے ہوئے سوالات کا سامناہے ۔ اسرائیلی فوجیوں نے قبل ازیں فلسطینیوں کو ہلاک کیاتھا۔اس بات کااظہار غزہ کی وزارت صحت نے کیا ۔ جمعہ کو دوبارہ تشدد میں اضافہ ہوگیا جبکہ سرحد کے قریب احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے‘جن میں 9فلسطینی بشمول ایک صحافی شامل ہیں ۔ 30مارچ کو اسرائیلی فوج نے ہزاروں افراد کے احتجاج پر19 فلسطینیوں کو ہلاک کیا۔ احتجاج کے نتیجہ میں جھڑپیں ہوئی تھیں ۔ کسی اسرائیلی کی ہلاکت کی کوئی اطلاع نہیں ۔ اسرائیل کا کہناہے کہ اس نے سرحدی باڑھ کو نقصان سے روکنے کے لیے ضرورت کے وقت ہی فائرنگ کی تھی ۔ علاوہ ازیں دراندازی اقدامات اور حملوں کی کوششوں پر بھی فائرنگ کی کاروائی کی گئی تھی ۔ غزہ پٹی پر قابض اسلامی تحریک حماس جس سے 2008 کے بعد سے اس کی تین مرتبہ جنگ ہوئی تھی ۔ الزام عائد کیا کہ حماس تشدد برپا کرنے کے لیے ایک بہانہ کی حیثیت سے احتجاجی مظاہروں کااستعمال کررہاہے ۔ تاہم حقوق انسانی گروپس نے اسرائیلی فوجی کاروائیوں پر سخت تنقید کی ہے ۔فلسطینیوں کا کہناہے کہ احتجاجیوں کو اس وقت گولی کانشانہ بنایا جارہاہے جبکہ وہ فوج کے لیے کوئی خطرہ نہیں بن رہے ہیں۔ یوروپی یونین اور اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری انٹونیو گٹریس نے آزادانہ تحقیقات کامطالبہ کیاہے جسے اسرائیل نے مسترد کردیاہے ۔ کل یوروپی یونین نے اس بات پر سوال کیا کہ آیا اسرائیلی فوجی طاقت کامتناسب استعمال کررہے ہیں یا نہیں۔

جواب چھوڑیں