پاکستان لوٹنے مشرف کا منصوبہ ملتوی

 پاکستان کے سابق فوجی حکمراں پرویز مشرف نے آج پاکستان واپسی کے اپنے منصوبہ کو ملتوی کردیا ۔ انہوں نے بتایا کہ عبوری حکومت کی تشکیل تک وہ ملک نہیں لوٹیں گے ۔ میڈیا رپورٹ میں یہ با ت بتائی گئی۔ سابق صدر اور آل مسلم لیگ اے پی ایم ایل کے سربراہ مشرف مشرف غداری مقدمہ میں پاکستان کی خصوصی عدالت میں حاضر ہونے والے تھے ۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات سے واپسی کے منصوبہ کو ملتوی کردیا جبکہ موجودہ حکومت مبینہ طور پر انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کرے گی جس کی انہوں نے درخواست دی تھی ۔ پارٹی کے قائدنے یہ بات بتائی۔ امکان ہے کہ وہ مئی کے اواخر تک یا جون کے ابتدائی ایام میں اس وقت لوٹ جئیں گے جبکہ عبوری حکومت تشکیل دی جاتی ہو ۔ پارٹی قائد نے اکسپریس ٹربیون کو یہ بات بتائی۔ اے پی ایم ایل کی مرکزی قیادت تاریخ کو قطعیت دے گی ۔ 74 سالہ موظف جنرل گذشتہ سال سے دبئی میں مقیم ہیں۔ اس وقت انہیں علاج کے لیے پاکستان سے جانے کی اجازت دی گئی تھی۔ مشرف نے 1999 تا2008 تک پاکستان پر حکومت کی تھی ۔ انہوں نے اپنی واپسی کے سلسلہ میں حکومت سے مناسب سیکیورٹی کی مانگ کی تھی جبکہ ان کے وکیل نے وزارت داخلہ میں درخواست داخل کرتے ہوئے بتایا تھا سابق صدر کو سیکیورٹی خطرات کا سامناہے ۔ پارٹی نے وفاقی حکومت کو ایک اور عرضی پیش کرنے کافیصلہ کیاہے جس کے ذریعہ مشرف سیکیورٹی کی مانگ کی جائے گی۔ سابق فوجی حکمراں کے خلاف 2014 میں بغاوت کے الزام کے ساتھ فرد جرم عائد کیاگیاتھا ۔

جواب چھوڑیں