ہندوستان اور پاکستان‘ زمینی حقائق کو تسلیم کریں: فاروق عبداللہ

حقیقی خط قبضہ (ایل او سی) کو خط امن و خیر سگالی میں تبدیل کرنے کی وکالت کرتے ہوئے صدر نیشنل کانفرنس فاروق عبداللہ نے آج مرکز کو خبر دار کیا کہ جموں وکشمیر کے عوام سے من مانی نہ کی جائے اور ان کی جائز امنگوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ نوٹ بندی کی وجہ سے جموں و کشمیر میں سنگ باری ختم ہوجانے کا دعویٰ جھوٹا ثابت ہواہے کیونکہ نوجوان اب بندوق اٹھا رہے ہیں۔ صورتحال کو اب مزید بگڑنے نہیں دیا جاسکتا۔ فاروق عبداللہ نے ضلع پونچھ کے منڈی میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ سابق چیف منسٹر نے کہا کہ لوگوں کا دل جیتنے کے لئے کوششیں جلد ہونی چاہیے۔ انہوں نے مرکز سے خواہش کی کہ وہ ان مسائل کو حل کرے کہ وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے لازمی طور پر سیاسی ہیں۔ وہ تفرقہ ڈالنے کی پالیسی کو ترک کرتے ہوئے لوگوں کے دل و دماغ جیتنے کی کوشش کرے۔ رکن پارلیمنٹ نے اعادہ کیا کہ ہند ۔ پاک کی بات چیت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو لائن آف پیس میں بدلنا چاہیے تاکہ عوام سے عوام کا بلا روک ٹوک رابطہ استوار ہو۔ جموں و کشمیر کے منقسم حصوں کے درمیان بلا روک ٹوک تجارت ہو۔ دونوں ممالک جتنا جلد زمینی حقائق کو تسلیم کرلیں وہ تعلقات کے سدھار میں بہتر ہوگا۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ گذشتہ 70 برس میں جو جنگیں ہوئیں وہ حقیقی خط قبضہ کی حقیقت بدل نہیں سکیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر ٹکرائو ہندوستان اور پاکستان دونوں کیلئے نقصاندہ ہے۔ باقاعدہ جنگ ہوئی تو وہ خط کے لئے تباہ کن ہوگی۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایل او سی کو ایل او پی میں بدلنے سے سرحد کے دونوں جانب آباد لوگوں کو فائدہ پہنچے گا جو دشمنی کی مار جھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد کے قریب آباد لوگ کئی مسائل سے دوچار ہیں۔ ملک مشکل دور سے گذر رہا ہیں کیونکہ سماج کو مذہب اور ذات پات کے نام پر بانٹنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے ایس سی/ ایس ٹی قانون کے مسئلہ پر حالیہ تشدد کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریزرویشن ختم کرنے کی سازشیں ہورہی ہیں۔ مرکزی موجودہ حکومت کسانوں، کمزور طبقات اور اقلیتوں کے مفادات کے خلاف کام کررہی ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کی خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کی ہے۔

جواب چھوڑیں