یوپی میں بی جے پی سے قطع تعلق کرلینے کابینی وزیر کی دھمکی

بعض بی جے پی ارکان پارلیمنٹ کی ان شکایتوں کے درمیان کہ یو پی حکومت ان کے مسائل نہیں سن رہی ہے این ڈی اے حلیف ایس بی ایس پی نے آج چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ پر الزام عائد کیا کہ وہ مخلوط حکومت کو چلانے کا جو ضابطہ ہوتا ہے اس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ پارٹی کو ایسا لگ رہا ہے کہ اسے نظر انداز کیا جارہا ہے۔ پارٹی قائد اور یو پی کے کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے میڈیا سے کہا کہ میں 10؍ اپریل کو بی جے پی صدر امیت شاہ سے ملاقات کروں گا۔ انہوں نے اگر ہمارے مسائل کی یکسوئی نہیں کی تو پھر اتحاد برقرار رکھنے پر نظر ثانی ہوگی۔ چیف منسٹر یو پی پر تنقید کرتے ہوئے راج بھر نے کہا کہ ارکان پارلیمنٹ اور ارکان اسمبلی نے آدتیہ ناتھ حکومت سے خفا کیوں ہیں؟۔ وہ اپنی شکایتیں لے کر دہلی کیوں جارہے ہیں؟۔ ارکان اسمبلی خفا کیوں ہے اور احتجاج کیوں کررہے ہیں؟۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کا نعرہ سب کا ساتھ سب کا وکاس من وعن لاگو نہیں کیا جارہا ہے۔ اعلیٰ ذات بی جے پی قائدین کے رشتہ داروں کا تقرر ہورہا ہیں۔ مجھے بتایا جائے کہ پسماندہ ذاتوں اور درج فہرست ذاتوں کے لوگ کہاں جائیں۔ یو پی کابینہ کے اجلاس میں ہرکسی کی بات سنی جاتی ہے لیکن فیصلہ صرف 4 تا 5 لوگ کرتے ہیں۔ ہم نے آپ کو ووٹ دیا ہے کہ تو پھر ہماری بات بھی چلنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ 10؍ اپریل کے بعد میں آپ کو بتائوں گا کہ بی جے پی کیا چاہتی ہے اور راج بھر کیا چاہتا ہے۔ قبل ازیں رابرٹس گنج کے رکن لوک سبھا چھوٹے لال نے وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھا کہ وہ جب ایک مسئلہ لے کر چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے پاس لئے گئے تھے تو چیف منسٹر نے انہیں ڈانٹ دیا تھا۔ یو این آئی کے بموجب سہیل دیو بھارتیہ سماج کے صدر اور اترپردیش کے کابینی ویر اوم پرکاش راج بھر نے پھر دھمکی دی کہ وہ ریاست میں بی جے پی سے قطع تعلق کرلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس حکومت میں کرپشن عام ہے۔ عہدیدار من مانی کررہے ہیں۔ برسرا قتدار اتحاد کے 325 ارکان اسمبلی عوام کی برہمی جھیل رہے ہیں۔ وہ بھی ریاست کے لئے نالائق ثابت ہورہے ہیں۔ راج بھر نے کہا کہ 10 یا 11 ؍ اپریل کو لکھنؤ میں بی جے پی صدر امیت شاہ سے ان کی ملاقات میں طئے ہوجائے گا کہ ان کی پارٹی اتحاد میں برقرار رہے گی یا نہیں؟۔ یوگی آدتیہ ناتھ حکومت کی ایک سالہ تقاریب کا بائیکاٹ کرنے والے وزیر نے اتوار کو کہا کہ بی جے پی حکومت کی حالت بے حد خراب ہے۔ انہوں نے دلتوں کے ساتھ زیادتیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا اور کہا کہ حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ پر تنقید کرتے ہوئے راج بھر نے کہا کہ ریاست کا چیف منسٹر 325 منتخب ارکان اسمبلی میں سے منتخب ہونا چاہیے۔ ریاست پر مسلط نہیں کرنا چاہیے۔ زمینی حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی بڑی تعداد راشن کارڈ، امکنہ اور دیگر سرکاری اسکیموں سے محروم ہے لیکن بعض عہدیدار کاغذات میں دکھا رہے ہیں کہ یہ بھی کام مکمل ہوگئے اور چیف منسٹر ان رپورٹس پر بھروسہ کررہے ہیں۔ راج بھر نے کہا کہ میں نے ریاستی حکومت کے سربراہ (چیف منسٹر) کی توجہ سرکاری مشنری کی غلطیوں کی طرف مبذول کرائی ہے۔ میں نے حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے یہ توجہ دلائی۔ چیف منسٹر نے میری بات سنی ہوتی تو مجھے امیت شاہ سے ملنے دہلی جانا نہیں پڑتا۔ کابینی وزیر ہونے کے باوجود ایک ضلع مجسٹریٹ کو ہٹانے کا میرا مطالبہ چیف منسٹر نے قبول نہیں کیا۔ چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ پر مخلوط حکومت کے ضابطے پر عمل نہ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے بی جے پی کی حلیف جماعت ایس بی ایس پی نے آج کہا کہ اسے ایسا لگ رہا ہے کہ وہ نظر انداز کی جارہی ہے۔ پارٹی قائد اور یوپی کے کابینی وزیر اوم پرکاش راج بھر نے لکھنؤ میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ میں لکھنؤ میں 10؍ اپریل کو بی جے پی صدر امیت شاہ سے تفصیلی بات چیت کروں گا اور اپنی پارٹی کا لائحہ عمل طے کروں گا۔ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ سہیل دیو بھارتیہ سماج پارٹی بی جے پی سے قطع تعلق کرسکتی ہے۔ چار سو تین رکنی یو پی اسمبلی میں ایس بی ایس پی کے 4 ارکان ہیں۔

جواب چھوڑیں