بھگوا جماعت کے خلاف متحدہ محاذ ضروری: سلمان خورشید

ہندوستان میں عام انتخابات کو اب صرف ایک سال رہ گیا ہے ایسے میں سینئر کانگریس قائد سلمان خورشید نے کہا ہے کہ برسراقتدار بی جے پی کی پسپائی شروع ہوگئی ہے اور 2014 میں شہرت کی جس لہر پر سوار ہوکر وہ برسراقتدار آئی تھی وہ کمزور پڑنے لگی ہے۔ دلتوں کے احتجاج‘ کسانوں کے احتجاج اور بڑے فراڈ کیسس کے پس منظر میں انہوں نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ کارکردگی اسے (بی جے پی) 2019 میں پھر برسراقتدار لائے گی۔ اس کا واضح جواب ہے ’’نہیں‘‘۔ سلمان خورشید نے یہاں پی ٹی آئی سے کہا کہ میرے خیال میں بی جے پی کی پسپائی شروع ہوگئی ہے۔ میں یوں ہی نہیں کہہ رہا ہوں۔ 2019 بی جے پی کے لئے انتہائی انتہائی کٹھن ہوگا۔ سابق وزیر خارجہ‘ ساؤتھ ایشیا بزنس اسوسی ایشن کے زیراہتمام کولمبیا بزنس اسکول میں 14 ویں سالانہ انڈیا بزنس کانفرنس سے خطاب کے لئے نیویارک آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں ’’سماجی ناآہنگی‘‘ کے تعلق سے کئی بڑے سوال اٹھے ہیں۔ دلت جس طرح پھٹ پڑے‘ اس پر بحث ہونے لگی ہے۔ بی جے پی نے مسلمانوں کو جس طرح ایک کونہ میں دھکیل دیا اس سے لوگ اپنے بارے میں زیادہ سوچنے لگے ہیں۔ دلتوں کے احتجاج نے یقینا عوام کی توجہ اپنی جانب کھینچی ہے۔ کانفرنس سے خطاب میں سلمان خورشید نے زور دے کر کہا کہ بی جے پی کے لئے حالات بدلنے لگے ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ مقبولیت کی جس لہر پر سوار ہوکر 2014 میں برسراقتدار آئی تھی وہ اب دکھائی نہیں دیتی۔ یہ واضح ہے لیکن یہ لہر پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک‘ راجستھان اور مدھیہ پردیش کے اسمبلی الیکشن میں کانگریس ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ کرناٹک ہمارے پاس ہی رہے گی جیسا کہ ہمیں امید ہے‘ راجستھان اور مدھیہ پردیش میں بھی ہمیں جیت مل جائے جیسا کہ ہمیں امید ہے تو میرے خیال میں بہت بڑا فرق پڑے گا تاہم‘ ہم غافل نہیں رہ سکتے۔ 2019 کے لئے اہم ہے کہ بی جے پی کے خلاف متحدہ محاذ بنے۔ انہوں نے کہا کہ صدرنشین یو پی اے سونیا گاندھی 2019 کے لئے مختلف جماعتوں کو یکجا کرنے کی کڑی مشقت کررہی ہیں۔ کانفرنس سے خطاب میں سلمان خورشید نے کہا کہ ہندوستان میں آج مسئلہ یہ ہے کہ عوام سے کئی وعدے کئے گئے لیکن حکومتیں انہیں وفا نہیں کرپائیں۔

جواب چھوڑیں