حسن روحانی کے مشیر کا ایران میں تمام اقلیتوں کی تذلیل کا اعتراف:علی یونسی

ایران میں صدر حسن روحانی کے مشیر برائے مذہبی و نسلی امور علی یونسی کا کہنا ہے کہ ایران کی تمام اقلیتوں میں امتیازی سلوک اور تذلیل کا احساس ابھی تک ختم نہیں ہوا ہے۔ایرانی روزنامے “شرق” میں ہفتے کے روز شائع ہونے والے خصوصی انٹرویو میں یونسی کا کہنا تھا کہ نسلی اور مذہبی اقلیتوں سے متعلق معاملات کا شمار ایران کو درپیش سب سے بڑے سیاسی چیلنجوں میں ہوتا ہے۔یونسی نے باور کرایا کہ اسلامی جمہوریہ کے نظام کو چار دہائیاں گزر چکی ہیں تاہم مختلف قومیتوں اور مذہبی اقلیتوں بالخصوص ملک کے سْنیوں کے اندر ابھی تک امتیازی برتاؤ اور تذلیل کا احساس باقی ہے۔ صدر حسن روحانی کے تمام تر وعدوں کے باوجود اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے شہری ملک کی انتظامیہ میں شریک ہونے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ یونسی کے مطابق “ہمیں بلوچوں، کْردوں، عربوں، تْرکمانوں اور سْنیوں میں سے تعلیم یافتہ دانش ور طبقے کو لے کر انہیں ریاست میں اہم عہدوں پر مقرّر کرنا چاہیے۔یونسی نے واضح کیا کہ “یہ امر قومی سلامتی اور ملّی یک جہتی کے مفاد میں ہر گز نہیں کہ سْنیوں کو یا کسی قومیت یا مذہبی فرقے سے تعلق رکھنے والے شخص کو سماجی عہدوں اور پارلیمانی نمائندگی سے محروم کیا جائے یا پھر انہیں وزارتوں میں منصب سنبھالنے یا جامعات میں تدریس انجام دینے سے روکا جائے۔یونسی کے مطابق قومی اور مذہبی اقلیتوں کے حوالے سے تنگ نظری اور تعصّب قومی سلامتی کے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔البتہ علی یونسی نے اس حوالے سے زیادہ نہیں بتایا کہ یہ تنگ نظر اور متعصب عناصر کون ہیں۔

جواب چھوڑیں