شام کے فضائی اڈہ پر حملہ‘ 14 ہلاک

حکومت شام کے ایک فضائی اڈہ پر آج صبح حملہ میں 14 لڑاکے مارے گئے۔ ان میں ایرانی بھی شامل ہیں۔ ایک نگراں گروپ نے یہ بات بتائی۔برطانیہ میں قائم دی سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بتایا کہ T-4 ایرپورٹ پر حملہ میں کم ازکم 14 لڑاکے مارے گئے۔ ان میں ایرانی فورس کے لڑاکے بھی شامل ہیں۔شام کے سرکاری میڈیا نے قبل ازیں حملہ میں مرنے والوں اور زخمی ہونے والوں کی اطلاع دی تھی لیکن اس نے تعداد نہیں بتائی تھی۔ T-4 فضائی اڈہ شام کے وسطی صوبہ حمص میں واقع ہے۔ روس اور ایران کی فوج کے علاوہ تہران کی تائیدی لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے لڑاکے بھی اس اڈہ پر موجود رہتے ہیں۔ آبزرویٹری کے سربراہ رمی عبدالرحمن نے یہ بات بتائی۔ جنگ زدہ ملک شام میں خبریں اکٹھا کرنے آبزرویٹری کا وسیع نیٹ ورک ہے۔ اس نے کہا کہ وہ توثیق نہیں کرسکتی کہ T-4 اڈہ پر حملہ کس نے کیا۔ اسرائیل نے فروری میں شام کے وسط میں حکومت شام کے ایک اڈہ پر حملے کئے تھے۔ اُس وقت آبزرویٹری نے اڈہ کی نشاندہی T-4 کے طورپر کی تھی۔ اسرائیل‘ شام کی 7 سالہ جنگ کے دوران کئی مرتبہ شام کے اندر حملے کرچکا ہے۔ اس نے ایران اور حزب اللہ کے لڑاکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ آج کے حملہ پر اسرائیلی فوج کے ترجمان نے تبصرہ سے انکار کردیا۔ یہ حملہ ایسے وقت ہوا ہے جب شام کے دارالحکومت دمشق کے باہر باغیوں کے زیرکنٹرول ٹاؤن پر مبینہ کیمیائی حملہ پر دنیا بھر میں برہمی پائی جاتی ہے ۔دمشق سے آئی اے این ایس کے بموجب وسطی شام میں ایک فضائی اڈہ پر پیر کے دن حملہ میں کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوئے۔ اسد کی حکومت اور روس نے اسرائیل کو اس کے لئے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ سرکاری سیرین عرب نیوز ایجنسی نے فوجی ذرائع کے حوالہ سے کہا کہ شام کے ایر ڈیفنس نے ایک اسرائیلی مزائل کو روکا اور اس نے 8 مزائل مار گرائے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مزائل اسرائیلی ایف۔ 15 لڑاکا طیاروں سے لبنانی فضائی حدود سے فائر کئے گئے تاہم نیوز ایجنسی نے ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ‘ صرف اتنا کہا کہ لوگ شہید ہوئے ہیں اور زخمی بھی۔ سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ فضائی اڈہ پر حملہ میں مرنے والوں میں ایرانی بھی شامل ہیں۔ ابتدا میں نیوز ایجنسی نے کہا تھا کہ یہ امریکی حملہ جیسا ہے لیکن امریکہ نے جیسے ہی تردید کی ‘ روسی فوج اور شامی آمر بشارالاسد کی حکومت نے اسرائیل کو موردِ الزام ٹھہرانا شروع کردیا۔ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ واشنگٹن نے پیر کا حملہ نہیں کیا۔ فی الحال ہم شام میں کوئی فضائی حملے نہیں کررہے ہیں۔ پنٹگان نے ایک بیان میں یہ بات کہی۔ فرانس نے بھی تردید کی اور کہا کہ ہم صورت حال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال کرنے والوں کے خلاف جاریہ سفارتی کوششوں کی ہم تائید کرتے ہیں۔ شام کے اندر سابق میں حملے کرچکے اسرائیل نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ آج جو فضائی اڈہ T-4 نشانہ بنا وہ شہر حمص کے قریب واقع ہے۔ روس کی وزارت ِ دفاع نے کہا کہ 8 مزائلوں میں 5 کو مار گرایا گیا جبکہ 3 فضائی اڈہ کے مغربی حصہ تک پہنچ گئے تھے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مبینہ کیمیائی حملہ کے لئے اسد کو جانور قراردیا تھا اور کہا تھا کہ شام کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑے گی۔ اُردن کے دارالحکومت عمّان سے رائٹر کے بموجب وسطی شام کے بڑے فضائی اڈہ پر مشتبہ امریکی فضائی حملہ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں لیکن امریکہ نے حملہ کی تردید کردی ہے۔ شام کے فوجی ذرائع کے حوالہ سے شام کے سرکاری میڈیا نے اطلاع دی کہ ایر ڈیفنس نے 8 مزائلوں کو مار گرایا۔ دفاعی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اس فضائی اڈہ پر روسی فورس کی بڑی تعداد تعینات ہے اور یہاں سے باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں کو نشانہ بنانے طیارے اڑان بھرتے رہتے ہیں۔ امریکی پنٹگان نے کہا کہ وہ شام میں فی الحال کوئی فضائی حملے نہیں کررہا ہے۔ دھماکوں کے بارے میں پوچھا گیا تو اسرائیل کی خاتون ترجمان نے تبصرہ سے انکار کردیا۔

جواب چھوڑیں