شمالی کوریا‘ نیوکلیر پروگرام پر بات چیت کیلئے تیار:امریکہ

امریکی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے وعدہ کیا ہے کہ دونوں ممالک کے رہنماؤں کی ملاقات میں وہ امریکہ سے اپنے جوہری ہتھیار اور ان کے مستقبل کے بارے میں بات کرے گا۔ذرائع کے مطابق اس ملاقات کی تیاریاں خفیہ رکھی جا رہی ہیں اور اس کی تاریخ، مقام اور دیگر تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔بتایا گیا ہے کہ شمالی کوریا اور امریکی حکام کی اس ملاقات کے حوالے سے کئی دفعہ گفتگو ہوئی ہے اور وہ کسی تیسرے ملک میں مل بھی چکے ہیں۔دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے پہلی ملاقات مئی میں متوقع ہے اور اس سے قبل کبھی بھی کسی حاضر امریکی صدر نے شمالی کوریائی سربراہ سے ملاقات نہیں کی ہے۔امریکی حکام کے مطابق شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو کئی بار یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے بارے میں بات چیت کرنے کو تیار ہے لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ ایسی یقین دہانی امریکہ کو کرائی گئی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کی ملاقات کی خبر مارچ میں سامنے آئی تھی اور وہ عالمی برادری کے لیے نہایت حیران کن تھی۔ واضح رہے کہ اس خبر کے آنے سے ایک سال قبل تک ان دونوں کے درمیان لفظی جنگ جاری تھی جس میں دونوں نے ایک دوسرے کی ذات پر حملے کیے اور دھمکیاں دیں۔یاد رہے کہ شمالی کوریا ماضی میں اپنے جوہری ہتھیار اور میزائل کے تجربات بند کر چکا ہے لیکن اپنے مطالبات کی نامنظوری پر انھیں دوبارہ شروع کر دیا تھا۔دوسری جانب شمالی کوریا کی جانب سے ایسا کوئی پیغام نہیں آیا ہے جہاں انھوں نے اس ملاقات کی تصدیق کی ہو۔لیکن دونوں ممالک کے حکام کی ملاقاتوں سے یہ واضح ہے کہ تیاریاں جاری ہیں۔گذشتہ ماہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے 2011 میں ملک کی سربراہی سنبھالنے کے بعد پہلی بار غیر ملکی دورہ کیا جب وہ چین گئے اور وہاں کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔چین شمالی کوریا کا مرکزی اقتصادی ساتھی ہے اور یہ بہت ممکن ہے کہ وہ شمالی کوریا کے رہنما امریکی صدر سے ملاقت سے قبل چین لیڈرشپ سے مشورہ لیں۔شمالی کوریا اور امریکہ کی ملاقات کرانے میں مرکزی کردار جنوبی کوریا نے ادا کیا ہے۔تاہم بعد ازاں دیگر ملکوں بشمول چین نے بھی امریکی حکام کو بتایا تھا کہ شمالی کوریا امریکہ کو کی جانے والی سربراہی ملاقات کی پیش کش کے بارے میں سنجیدہ ہے۔لیکن تاحال شمالی کوریا کے کسی اعلیٰ عہدیدار نے صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان کی مجوزہ ملاقات کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث ملاقات کی اس پیشکش اور اس کے پیچھے کار فرما مقاصد کے بارے میں قیاس آرائیاں بدستور جاری ہیں۔اتوار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے بتایا کہ امریکہ نے تصدیق کرلی ہے کہ کم جونگ ان جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے امکان پر بات چیت کرنے پر آمادہ ہیں۔ایک اور اعلیٰ امریکی اہلکار نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ اس بارے میں تصدیق امریکہ اور شمالی کوریا کے حکام کے درمیان ہونے والے براہِ راست رابطوں کے نتیجے میں ہوئی ہے۔

جواب چھوڑیں