ہادیہ کو ’اپنی ذات پرمطلق خود اختیاری حاصل‘: سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے آج کیرالا ہائیکورٹ کے فیصلہ کو کالعدم قراردیا اور ‘ہادیہ اور شفین جہاں کی بین مذہبی شادی کو بحال کردیا ونیز کہا کہ ہادیہ کو ’’اپنی ذات پرمطلق خوداختیاری حاصل ہے‘‘۔ عدالت نے یہ کہتے ہوئے کہ کسی شخص کے عقیدہ کا تعلق اُس شخص کے بامعنیٰ وجود سے غیرمنفک ہے‘ بتایاکہ عقیدہ کا انتخاب ‘فرد کی بنیادی پسند ہے اور اس کے بغیر‘ پسند کا حق،ایک شائبہ بن جاتا ہے‘‘۔ چیف جسٹس مسٹر جسٹس دیپک مشرا اور جسٹسیس اے ایم کھنویلکر ونیز ڈی وائی چندرچوڑپرمشتمل بنچ نے دوعلٰحدہ لیکن متفقہ فیصلے دئیے اور کہا کہ ’’ قانون کے مطابق پسند کا اظہار،انفرادی شناخت کی قبولیت ہے‘‘۔ ’’کسی شخص کا عقیدہ اُس شخص(مرد؍عورت) کے بامعنی وجود سے غیرمنفک ہے۔ کسی فرد کی خوداختیاری کے لئے عقیدہ کی آزادی لازمی ہے اور یہ ‘ دستور کے بنیادی اُصولوں کو استحکام بخشتی ہے‘‘۔ یہاں یہ تذکرہ بیجانہ ہوگا کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ 8مارچ کو کیرالا ہائی کورٹ کے فیصلہ کو ردکردیاتھا۔ ہائیکورٹ نے شفین جہاں اور ہادیہ کے درمیان شادی کو باطل اور کالعدم قراردیاتھا۔ ہادیہ نے عدالت کے سامنے پیش ہوکر واضح طور پر یہ کہہ دیاتھا کہ وہ اسلام قبول کرچکی ہے اور اپنی مرضی سے‘ شفین جہاں سے شادی کی ہے۔ ہادیہ کے والد کے استدلالوں کا حوالہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ نے کہا کہ ممکن ہے کہ وہ(ہادیہ کا باپ) یہ محسوس کرے کہ اس کی بیٹی کے مفاد کے تحفظ کے‘ اُس کے حق کی ’’زبردست خلاف ورزی‘‘ ہوئی ہے لیکن اس نقطۂ نظر کو’’ہادیہ کے بنیادی حقوق کو قطع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی‘‘۔ آزادی‘ دونوں طرح کا یعنی ایک دستوری اور ایک انسانی حق ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے کہا کہ ہائی کورٹ نے مرافعہ گذار اور مدعی علیہ نمبر9 (ہادیہ) کے درمیان شادی کو باطل قراردینے کا بوجھ اپنے اوپر لیتے ہوئے کلیتاً غلطی کی ہے جبکہ دونوں (ہادیہ اور شفین جہاں) اپنی شادی کے عہد پر مضبوطی سے قائم ہیں۔ سپریم کورٹ نے مزید کہا کہ ’’کسی کی آزادی کو‘ جو بنیادی طور پر پسند سے جڑی ہوئی ہو،عقیدہ کے عذر پر محروم کرنا‘ ممنوع؍ ناجائز ہے‘‘ ۔

جواب چھوڑیں