اقلیتوں اور دلتوں پر مظالم بڑھتے جارہے ہیں: منموہن سنگھ

سابق وزیراعظم منموہن سنگھ نے آج کہا کہ اقلیتوں اور دلتوں پر زیادتیاں بڑھتی جارہی ہیں اور ایسے واقعات کی اگر روک تھام نہ کی گئی تو اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے تفرقہ پسند پالیسیوں اور سیاست کو مسترد کردینے کا مطالبہ کیا۔ اپنی مادرِ علمی پنجاب یونیورسٹی میں پہلا ایس بی رنگنیکر میموریل لکچر دیتے ہوئے منموہن سنگھ نے کہا کہ ملک کی سیاست میں آزادی اور ترقی کے درمیان کسی ایک کو منتخب کرنے کا خطرناک رجحان پنپ رہا ہے۔ انہوں نے تشویش ظاہر کی کہ عوام کو بانٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی عوام کو مذہب ‘ ذات پات‘ زبان اور ثقافت کی بنیاد پر بانٹنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اقلیتوں اور دلتوں کے ساتھ زیادتیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ انہیں نہ روکا گیا تو صرف اور صرف ہماری جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ عوام کو تفرقہ پسند پالیسیوں اور سیاست کو سختی سے مسترد کرنا ہوگا۔ سابق وزیراعظم نے زور دے کر کہا کہ ملک کی آزادی کا مطلب صرف حکومت کی آزادی نہیں ہوتا بلکہ عوام کو آزادی حاصل ہونی چاہئے ۔ صرف مراعات یافتہ اور طاقتور لوگوں کو نہیں بلکہ ہر ہندوستانی کو آزادی ہونی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ سوال کرنے کی آزادی ہونی چاہئے‘ اظہارِ رائے کی آزادی ہونی چاہئے اس سے چاہے دوسروں کو تکلیف ہی کیوں نہ پہنچے۔ آزادی پر صرف ایک بندش دوسروں کی آزادی سلب نہ کرنے کی ہونی چاہئے۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ایک شخص یا گروپ کی آزادی دوسروں کی آزادی سلب کرنے کے لئے نہ ہو ۔ انہوں نے زوردے کر کہا کہ آزادی کے اس نظریہ کے بغیر جمہوریت باقی نہیں رہے گی۔ ممتاز ماہر معاشیات نے یہ بھی کہا کہ بڑھتی معاشی نابرابری کی روک تھام پر توجہ دینا اہم ہے۔ آئی اے این ایس کے بموجب ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کہا کہ ہمیں خود سے سوال کرنا ہوگا کہ کہیں ہم جمہوریت سے نالاں تو نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمرانی ایک پیچیدہ عمل ہے۔ اس کے ثمرات دیرپا ہوتے ہیں۔ اس کے لئے بڑے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ جمہوریت وہ نظام ہے جس میں غیرمراعات یافتہ لوگوں کو حکمرانی میں فیصلہ کن اختیار حاصل ہوتا ہے ۔اگر یہ نہ رہا تو جمہوریت بے معنی ہوجائے گی۔

جواب چھوڑیں