اگلے 72 گھنٹوں میں شام پر فضائی حملے کا امکان

امریکہ اور روس کے درمیان شام میں مبینہ کیمیائی حملے سے متعلق تنازع شدت اختیار کرگیا ہے اور اس مسئلے پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی3 قراردادیں مسترد ہوگئی ہیں۔خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق کل ہونے والے 15 رکنی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس نے کیمیائی حملے سے متعلق امریکہ کی جانب سے پیش کی جانے والی قرارداد ویٹو کردی۔اسی بارے میں روس کی جانب سے پیش کی جانے والی دو قراردادیں منظوری کے لیے درکار کم از کم 9 ووٹ حاصل کرنے میں ناکامی کے باعث مسترد ہوگئیں۔سلامتی کونسل کا یہ اجلاس شام میں باغیوں کے زیرِ انتظام قصبے دوما پر ہفتہ کو کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے پر غور کے لیے طلب کیا گیا تھا جس میں اطلاعات کے مطابق کم از کم 60 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔شام کے باغی گروہوں اور امریکہ نے اس حملے کا الزام شام کے صدر بشار الاسد کی حکومت پر عائد کیا ہے جس کی شامی حکومت اور اس کے اتحادی روس نے تردید کی ہے۔روس صدر بشار الاسد کی حکومت کا دیرینہ اتحادی ہے اور وہ شام میں سات سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران اب تک شامی حکومت کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی 12 قراردادیں ویٹو کرچکا ہے۔امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ خبردار کرچکے ہیں کہ شام کی حکومت کو مبینہ کیمیائی حملے کی “بھاری قیمت” چکانا ہوگی۔امریکی صدر نے کہا ہے کہ وہ جوابی کارروائی سے متعلق چند روز میں فیصلہ کرلیں گے اور یہ کہ امریکہ کے پاس شام کے مسئلے پر “بہت سے فوجی آپشن” موجود ہیں۔ان کے اس بیان کے بعد خدشہ ہے کہ امریکہ شام کی فوجی تنصیبات پر فضائی حملے کرسکتا ہے۔ شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکہ، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملہ کی منصوبہ بندی کرلی ہے۔ امریکہ اس سے قبل بھی کیمیائی حملے کی اطلاعات پر شام کی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنا چکا ہے۔وائٹ ہاوس نے منگل کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے رواں ہفتے ہونے والا لاطینی امریکہ کا اپنا طے شدہ دورہ بھی منسوخ کردیا ہے تاکہ وہ شام میں پیش آنے والے واقعے کے بعد امریکہ کے آئندہ کے لائحہ عمل پر اپنی توجہ مرکوز رکھ سکیں۔روس نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ شام میں کسی کارروائی سے باز رہے۔ منگل کو سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں عالمی ادارے میں روس کے سفیر وسیلے نیبنزیا نے کہا کہ وہ ایک بار پھر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کر رہے ہیں کہ وہ ان منصوبوں پر عمل کرنے سے باز رہیں جو ان کے بقول وہ اس وقت شام کے بارے میں تیار کرر ہے ہیں۔کیمیائی ہتھیاروں کے نگران عالمی ادارے نے اعلان کیا ہے کہ شام اور روس کی درخواست پر وہ کیمیائی ہتھیاروں کے ماہرین کی اپنی ایک ٹیم دوما بھیج رہا ہے تاکہ زہریلی گیس کے مبینہ حملے کے الزامات کی تحقیقات کی جاسکیں۔برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں نے بھی دوما حملے کے ردِ عمل میں جوابی کارروائی کے امکانات پر ٹرمپ حکومت کے ساتھ تبادلہ خیال کیا ہے لیکن دونوں حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ حملے کے ذمہ داران کی تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔فضائی حدود کی نگرانی کے یورپی ادارے ’یوروکنٹرول‘ نے فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے گزرنے والی اپنی پروازوں کے حوالے سے احتیاط کریں کیونکہ اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملہ کیا جا سکتا ہے۔شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں ہفتہ آٹھ اپریل کو ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد سے صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مغربی اتحادی دوما میں کیے جانے والے اس مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرتے ہوئے صدر اسد کو سزا دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔ماسکو اپنے حلیف اسد کے خلاف کسی بھی طرح کی عسکری کارروائی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بارہ قراردادوں کا راستہ روک چکا ہے۔ ٹرمپ نے پیر نو اپریل کو خبردار کیا تھا کہ دوما میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین ہوتے ہی اس کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ماسکو اور واشنگٹن شامی علاقے دوما میں گزشتہ ہفتے کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک اس واقعے کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس تناظر میں ایک دوسرے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہے ہیں۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے منگل 10 اپریل کو لاطینی امریکی خطے کا پہلے سے طے شدہ اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ شام پر مرکوز کی ہوئی ہے۔دوما میں مبینہ کیمیائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔

جواب چھوڑیں