جعلی فیس بک اکاؤنٹس پاکستانی انتخابات کیلئے خطرہ : مارک زکر برگ

فیس بْک کے بانی مارک زوکر برگ نے کل امریکی سینیٹ میں پیشی کے دوران صارفین کے ڈیٹا کے غلط استعمال پر معذرت کی۔ کیمبرج اینالیٹیکا سکینڈل کے حوالے سے امریکی سینیٹروں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ فیس بْک نے اپنے صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے تھے۔ مارک زوکر برگ نے یہ اعتراف بھی بتایا کہ سن 2015 میں انہیں کیمبرج اینالیٹیکا اسکینڈل کا علم ہونے کے باوجود انہوں نے اس بارے میں امریکی حکومت کو آگاہ نہیں کیا تھا۔ ان کے بقول فیس بْک نے کیمبرج اینالیٹیکا کی جانب سے ڈیٹا ڈیلیٹ کر دیے جانے کی بات پر یقین کرتے ہوئے یہ سمجھ لیا تھا کہ یہ معاملہ ختم ہو چکا ہے۔ مارک زوکر برگ آج امریکی ایوان نمائندگان کی کامرس اور انرجی کمیٹی کے سامنے بھی پیش ہو رہے ہیں۔فیس بک کے بانی مارک زکربرگ نے کہا ہے کہ رواں سال پاکستان، بھارت اور برازیل سمیت کئی ممالک میں انتخابات ہونے جارہے ہیں جس کے لیے ہماری پہلی ترجیح سابقہ غلطی کو سدھارنا ہے کیونکہ جعلی اکاؤنٹس سے انتخابات پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔بین الاقوامی خبر رساں ایجنسی کے مطابق فیس بک کے سی ای او مارک زکر برگ نے امریکا کے صدارتی انتخاب میں صارفین کا ڈیٹا استعمال ہونے پر امریکی قانون ساز ادارے کانگریس کے اراکین کے سخت سوالوں کے جواب دیئے۔ فیس بک کے بانی نے تسلیم کیا ہے کہ سماجی رابطے کی ویب سائٹ میں موجود تمام مسائل اور غلطیوں کا ذمہ دار میں ہوں جنہیں ختم کرنے کے لیے اقدامات کا آغاز کردیا ہیمارک زکر برگ نے مزید کہا کہ ہمیں اندازہ ہے کہ جعلی خبروں، انتخابات میں غیرملکی مداخلت، نفرت انگیز مواد، ڈویلپر پالیسیوں اور ڈیٹا پرائیویسی کی روک تھام کے حوالے سے کئی مسائل کا سامنا رہا ہے جنہیں ہم درست طریقے سے نہیں برت سکے جس پر نہایت افسوس ہے لیکن آئندہ اپنی غلطیوں سے سیکھتے ہوئے ان مسائل پر قابو پالیں۔

جواب چھوڑیں