میرے شوہر اور متاثرہ خاتون کا نارکو ٹسٹ کرایا جائے۔بی جے پی رکن اسمبلی کی بیوی کا مطالبہ

اُناؤ اجتماعی عصمت ریزی کیس کے ملزم بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کی بیوی سنگیتا نے چہارشنبہ کو ڈائرکٹر جنرل پولیس اترپردیش او پی سنگھ سے لکھنو میں ملاقات کی اور اپنے شوہر اور متاثرہ خاتون کا نارکو ٹسٹ کرانے کا مطالبہ کیا۔سنگیتا نے کہا کہ ان کے خاندان کے خلاف سیاسی سازش ہورہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیاکہ متاثرہ خاتون کے بیانات میں یکسانیت نہیں ہے۔ ہمیں اس لڑکی سے پوری ہمدردی ہے لیکن اس کے پیچھے سیاسی وجوہات ہیں۔ میرے شوہر کو مہرہ بنایا جارہا ہے ۔ سنگیتا نے کہا کہ میرے شوہر بے قصور ہیں اور میری گذارش ہے کہ ان پر عصمت ریزی کا الزام نہ عائد کیا جائے۔ وہ 15 سال سے راج نیتی میں ہیں اور سماج اور عوام کی خدمت کررہے ہیں۔ اس واقعہ کی وجہ سے میری بیٹیاں تعلیم پر توجہ نہیں دے پارہی ہیں۔ سنگیتا نے کہا کہ ان کے دیور کے خلاف بھی جو الزام عائد کیا گیا ہے وہ جھوٹا ہے۔ یہ پوچھنے پر کہ آیا ان کے شوہر کو یوپی اسمبلی سے مستعفی ہوجانا چاہئے ‘ انہوں نے جواب دیا کہ محض الزامات کی بنیاد پر وہ کیوں مستعفی ہوں گے۔ سنگیتا نے کہا کہ وہ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے ملاقات کرنا چاہتی ہیں اور انہیں حقائق کی جانکاری دینا چاہتی ہیں۔ رکن اسمبلی کی بیوی کے علاوہ متاثرہ خاتون نے بھی پورے معاملہ کی سی بی آئی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران اے ڈی جی لکھنو زون راجیو کرشنا کی قیادت میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اجتماعی عصمت ریزی اور متاثرہ خاتون کے باپ کی زیرحراست موت کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ سنگیتا نے اخباری نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنے شوہر سے انصاف کی درخواست کرنے آئی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے شوہر بالکل بے قصور ہیں۔ انہوں نے غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کو چاہئے کہ وہ ان کے شوہر اور متاثرہ خاتون دونوں کا نارکو ٹسٹ کرائے۔ سنگیتا نے کہا کہ میرے شوہر بے قصور ہیں۔ اگر وہ خاطی ثابت ہوئے تو پورا خاندان اپنی جان دے دے گا۔ ثبوت کو جس طرح چھپایا جارہا ہے وہ ٹھیک نہیں۔ ہم انصاف چاہتے ہیں۔ ڈی جی پی سے ملاقات میں سنگیتا نے اپنے شوہر کے حق میں کئی کاغذات بھی پیش کئے اور دعویٰ کیا کہ لڑکی نے بعض لوگوں کی ایما پر الزام عائد کیا ہے۔ سنگیتا کے ساتھ بی جے پی رکن اسمبلی حلقہ گین ساری (بلرام پور) شیلیش کمار سنگھ شیلو‘ ڈی جی پی کے بنگلہ تک آئے تھے۔ اسی دوران یوپی پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم اُناؤ پہنچ گئی اور اس نے تحقیقات کا آغاز کردیا۔ اے ڈی جی کرشنا کمار نے کہا کہ متاثرہ خاتون کے خاندان کو مکمل سیکوریٹی دی جائے گی۔ خاتون کا ایک رشتہ دار دہلی میں رہتا ہے۔ اناؤ میں رہنا ہے یا دہلی میں‘ یہ فیصلہ متاثرہ خاندان کو کرنا ہے۔ اسی دو ران متاثرہ خاتون نے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے انصاف کی اپیل کی ہے۔ اس نے اُناو میں اخباری نمائندوں سے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ نے مجھے ہوٹل کمرہ تک محدود کردیا ہے۔ خاتون کی بہن نے بھی کہا ہے کہ انہیں قبل ازیں ضلع مجسٹریٹ کے بنگلہ میں رکھا گیا اور بعدازاں ہوٹل منتقل کردیا گیا۔ گاؤں لوٹنے پر انہیں اپنی زندگی خطرہ میں دکھائی دیتی ہے۔ متاثرہ خاتون کے چچا نے کہا ہے وہ بی جے پی صدر امیت شاہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی کے بموجب الٰہ آباد ہائی کورٹ نے آج کہا کہ اُناؤ اجتماعی عصمت ریزی کیس میں متاثرہ خاتون کے باپ کی آخری رسومات ادا نہ کی جائیں(اگر ادا نہ کی گئی ہوں تو)۔ آخری رسومات کل ہی ادا کردی گئیں۔

جواب چھوڑیں