ہم اْس معاہدہ کو نہیں دْہرانا چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا: محمد بن سلمان

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے مالی اثاثے عوام کی بہبود اور ترقی پر نہیں خرچ کر رہا بلکہ وہ یہ رقم اپنے نظریات پھیلانے پر لْٹا رہا ہے۔منگل کے روز پیرس کے الیزے پیلس میں فرانسیسی صدر امانوئل ماکروں کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں بن سلمان نے کہا کہ ایران کے توسیع پسندی کے منصوبے پر روک لگائی جانی چاہیے۔سعودی ولی عہد کا مزید کہنا تھا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ناگزیر ہے اور “ہم 1938ئمیں ہونے والے معاہدے کو دہرانا نہیں چاہتے جو دوسری جنگ عظیم کا سبب بنا تھا۔محمد بن سلمان نے واضح کیا کہ سعودی عرب اور فرانس کی شراکت داری بالخصوص موجودہ وقت میں نہایت اہم ہے۔ فرانس اور سعودی عرب کے درمیان اسلحے کی خریداری کے معاہدے ہیں اور یہ کوئی راز کی بات نہیں ہے۔سعودی ولی عہد نے ویڑن 2030ء پروگرام کے اہداف کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے وقت میں سعودی عرب تینوں براعظموں کے لیے کلیدی محور ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مملکت نے ابھی تک اپنی صلاحیتوں کا 10% سے زیادہ فائدہ نہیں اٹھایا ہے۔شام کے حوالے سے شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا کہ “ہم ضرورت پڑنے پر اپنے حلیفوں کے ساتھ کسی بھی عسکری کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم خطّے کی صورت حال مزید بگاڑنا نہیں چاہتے ہیں۔

جواب چھوڑیں