اناؤ اور کٹھوعہ واقعات کیخلاف کانگریس کا نیم شبی مشعل بردار احتجاجی مارچ

صدرکانگریس راہول گاندھی نے اناؤ اور کٹھوعہ عصمت ریزی واقعات پر عوامی برہمی کے بیچ اور خواتین پربڑھتے ہوئے جرائم کے خلاف بطور احتجاج‘ آج دہلی میں نیم شب کو ’’مشعل بردار چوکسی مارچ‘‘ کی قیادت کی۔ انہوں نے اپنی ٹوئٹ پر کہا کہ ’’ہرمحب وطن ہندوستانی کی طرح میرے دلی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ ہمارے ملک میں لڑکیوں اور خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے واقعات پر مجھے ٹھیس پہنچی ہے اور میں اپنے ملک کے شہریوں کو اس مارچ میں شریک ہونے کی دعوت دیتا ہوں‘‘۔ مسٹر گاندھی نے اناؤ اور کٹھوعہ عصمت ریزی واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ کٹھوعہ میں 8 سالہ لڑکی آصفہ کی عصمت ریزی کا واقعہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ ایسے مجرم کو نہیں بخشا جاسکتا۔ کانگریسی قائدین بشمول غلام نبی آزاد، امبیکاسونی، احمدپٹیل، سشمتا دیو، دیویا اسپندنا نے 24اکبر روڈ (کانگریس ہیڈکوارٹر) سے انڈیاگیٹ تک نکالے گئے مارچ میں شرکت کی۔ (یہ فاصلہ تقریباً ایک کیلومیٹر ہے)۔ راہول گاندھی کی ہمشیرہ پرینکاگاندھی وڈرا اور ان کے شوہر رابرٹ وڈرا نے بھی نصف شب کو منعقدہ اس احتجاجی مارچ میں حصہ لیا۔ قبل ازیں کانگریس نے اناؤ عصمت ریزی واقعہ پر وزیراعظم نریندرمودی کی خاموشی پر اعتراض کیا اور بی جے پی زیرحکومت ریاستوں پر‘ الزام لگایا کہ وہ (ریاستیں) خواتین کے خلاف جرائم میں سرفہرست ہیں۔ کانگریس نے سوال کیا ہے کہ یوپی پولیس نے اناؤ عصمت ریزی کیس کے ملزم ، بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کو گرفتارکیوں نہیں کیا۔ مسٹر کپل سبل نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ’ یہ راست الزام لگارہے ہیں کہ بی جے پی رکن اسمبلی کو ہرگز گرفتار نہیں کیاجائے گا۔ تحقیقات اب سی بی آئی کے حوالے کی گئی ہیں اور ریکارڈ دیکھنے سے پتہ چلتا ہے کہ وہ(سینگر) سی بی آئی کے کسی اقدام سے قبل فرارہوجائے گا اور پھر چند ماہ میں سی بی آئی یہ رپورٹ داخل کرے گی کہ اُس کا (سینگر) کا کوئی رول نہیں تھا‘‘۔ مسٹر سبل نے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو (این سی آربی) کی رپورٹ برائے سال 2016ء کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عصمت ریزی کے سب سے زیادہ واقعات مدھیہ پردیش میں ہوئے جس کے بعد یوپی اور مہاراشٹرا کا نمبر ہے۔ یوپی اے کے ایک اور سابق وزیراشونی کمار نے کہا کہ اناؤ واقعہ نے ایک سخت خلاف تحویل قانون کی ضرورت پر روشنی ڈالی ہے۔ مذکورہ واقعہ میں عصمت ریزی کی شکار خاتون کے والد کی موت یوپی پولیس کی جانب سے گرفتارکئے جانے کے بعد ہوئی تھی۔ مسٹر اشونی کمار نے کہا کہ ’’ہماری آزادانہ جمہوریت کے عرصۂ حیات میں اناؤ کیس ‘ ایک فیصلہ کن لمحہ ہے۔ مظلوم خاتون نے خودسوزی کی کوشش کی تھی جس کے دوسرے دن اس کا باپ 18 زخموں کے سبب فوت ہوا۔ یہ زخم عدالتی تحویل کے دوران اس کے جسم پر لگائے گئے تھے‘‘۔ اسی دوران کانگریس نے کہا ہے کہ اس کا احتجاج سیاسی نہیں ہے۔ کانگریس کے مارچ میں شامل سینکڑوں مظاہرین اپنے ساتھ تختیاں اور پوسٹرس اٹھائے ہوئے تھے جن پر یہ نعرہ بھی درج تھاکہ ’’بی جے پی سے بیٹی بچاؤ‘‘

جواب چھوڑیں