بی جے پی رکن اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر درج۔کیس سی بی آئی کے حوالے

اترپردیش پولیس نے اُناؤ میں ایک نابالغ لڑکی کی مبینہ اجتماعی عصمت ریزی کے سلسلہ میں آج بی جے پی رکن اسمبلی کلدیپ سنگھ سینگر کے خلاف ایک ایف آئی آر درج کرلی۔ اس سے چند گھنٹے قبل حکومت نے کہا تھا کہ وہ اس معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ کردے گی۔ محکمہ داخلہ کے پرنسپال سکریٹری اروند کمار نے بتایا کہ صف ِ اول کی تحقیقاتی ایجنسی جب تک اس معاملہ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لے لیتی‘ مقامی پولیس تحقیقات جاری رکھے گی تاہم سی بی آئی ہی اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے ملزم رکن اسمبلی کو گرفتار کیا جائے یا نہیں۔ اس کیس میں مکمل شفافیت برتنے کے لئے تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ کرنے ایک مکتوب آج محکمہ داخلہ کو روانہ کیا جائے گا۔ قبل ازیں اُناؤ پولیس نے ماکھی پولیس اسٹیشن میں سینگر کے خلاف تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اور بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے انسداد قانون (پی او سی ایس او ) کے تحت ایک ایف آئی آر درج کرلی۔ پی او سی ایس او قانون کے تحت کیس درج ہوتے ہی ملزم کو فوری طورپر گرفتار کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایف آئی آر دفعہ 376 (عصمت ریزی) ‘ 366 (کسی خاتون کا اغوا کرنا یا شادی کے لئے مجبور کرنے تحویل میں رکھنا )‘ 363 (اغوا) اور 506 (دھمکانا) کے تحت درج کی گئی ہے۔ محکمہ اطلاعات کے پرنسپال سکریٹری اویناش اوستھی نے کل رات دیر گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ سینگر اور دیگر کے خلاف مناسب دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جائے گی اور تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ کردی جائیں گی۔ اب جبکہ ایف آئی آر درج ہوچکی ہے تو آیا سینگر کو گرفتار کیا جائے گااس بارے میں مختلف سوالات کے جواب دیتے ہوئے کمار نے کہا کہ تحقیقات کے بعد کیس کی میرٹ کی بنیاد پر سی بی آئی اس بارے میں فیصلہ کرے گی۔ محکمہ داخلہ کے پرنسپال سکریٹری اور ریاستی ڈائرکٹر جنرل پولیس (ڈی جی پی) او پی سنگھ نے کہا کہ قبل ازیں مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان میں رکن اسمبلی کا نام نہیں لیا گیا ہے کیونکہ نابالغ لڑکی نے کہا تھا کہ اسے جان سے ماردیئے جانے کا اندیشہ ہے ۔ کمار نے ان الزامات کی بھی تردید کی کہ پولیس ‘ رکن اسمبلی کو بچانے کی کوشش کررہی ہے اور کہا کہ ان ہی الزامات کے سبب اس معاملہ کی تحقیقات سی بی آئی کے حوالہ کی جارہی ہیں۔ حکومت نے 17 سالہ لڑکی کے خاندان کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاطی پائے جانے والے کسی بھی شخص کو بخشا نہیں جائے گا اور تساہل و غفلت برتنے پر بعض پولیس ملازمین اور ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی شروع ہوچکی ہے۔ ڈی جی پی نے بتایا کہ 2 ڈاکٹروں کو معطل کردیا گیا ہے اور متاثرہ لڑکی کے والد کی مناسب طبی نگہداشت و علاج میں ناکامی پر دیگر 3 کے خلاف تادیبی کارروائی شروع کی گئی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی جانب سے بار بار شکایت کے باوجود غفلت برتنے پر صفی پور کے سرکل آفیسر کنور بہادر سنگھ کو بھی معطل کردیا گیا ہے۔ کمار نے بتایا کہ حکومت نے اس کیس کو سی بی آئی کے حوالہ کردینے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ 4 جون 2017کے واقعات (مبینہ عصمت ریزی) اور جاریہ سال 3 اپریل کے دیگر دو کیسس(متاثرہ لڑکی کے والد کو پولیس تحویل میں مارپیٹ جس کے نتیجہ میں اس کی موت واقع ہوگئی‘ باہم مربوط ہیں۔ اسی کے پیش نظر ان معاملات کو بھی سی بی آئی کے حوالہ کیا جارہا ہے۔ عہدیداروں نے یہ بھی وضاحت کی کہ قبل ازیں رکن اسمبلی کے خلاف ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی گئی تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کی وجہ یہ بھی کہ متاثرہ لڑکی نے مجسٹریٹ کے سامنے دیئے گئے بیان میں رکن اسمبلی کا نام نہیں لیا تھا۔ اب جبکہ اس لڑکی اور اس کے ارکان خاندان نے کل ایس آئی ٹی سے ملاقات میں یہ ظاہر کردیا ہے کہ انہوں نے خوف کے سبب ایسا نہیں کیا تھا‘ رکن اسمبلی کے خلاف ایک کیس درج کرلیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں