ریاض میں حوثیوں کے حملہ کی مذمت ‘علاقہ کی صورتحال دھماکو

امریکہ میں حوثیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے ریاض میں کئے گئے حملہ کی شدید مذمت کی اور کہا ہے کہ اب جبکہ علاقہ میں قیام امن کی کوششیں کی جارہی ہیں اس موقع پر حوثیوں کی جانب سے ریاض پر حملہ کیاگیاہے جس کی وجہ سے علاقہ کااستحکام متاثر ہوتاجارہاہے ۔ امریکہ نے ریاض میں حوثی میزائل حملہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہاکہ علاقہ کی صورتحال دھماکو ہوتی جارہی ہے ۔ اس لیے یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ اس سلسلہ میں پیشرفت کرے ۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ہیتھرنوارٹ نے کہاکہ امریکہ ‘سعودی عرب کے اس حق کی تائید کرتا ہے کہ وہ اپنے مفادات کے لیے اور سرحدات کے تحفظ کے لیے کاروائی کرے کیونکہ سعودی عرب کی سرحدات کو بھی خطرہ درپیش ہوتاجارہاہے ۔ امریکہ کا کہناہے کہ ہتھیاروں کے پھیلاو کی وجہ سے علاقہ کا استحکام ہورہاہے اور یہ صورتحال عالمی توجہ کی متقاضی ہوتی جارہی ہے ۔ حوثیوں کی جانب سے سعود عرب کے علاقوں پر حملہ کاسلسلہ جاری ہے ۔ ہیتھرنوارٹ نے کہاکہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے بعض علاقوں پر میزائل داغے جارہے ہیں جس کی وجہ سے وہاں کے امن و سکون میں نہ صرف خلل پڑرہاہے بلکہ مسائل بھی پیدا ہوتے جارہے ہیں۔ سعودی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ سعودی عرب کی افواج نے تین بیالسٹک میزائل کو مار گرانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے جبکہ شہر میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں ۔ اس دوران بتایاگیاہے کہ امریکہ کی خارجی امور سے متعلق کمیٹی نے آج اعلان کیا ہے کہ مشرقی وسطی کی صورتحال توجہ کی متقاضی ہوتی جارہی ہے ۔ اس لیے قیام امن کی کوششوں میں تیزی پیدا کردی جانی چاہئے ۔مشرقی وسطی کی صورتحال سے امریکہ اور دوسرے ممالک کو بھی فکر لاحق ہوگئی ہے ۔ امریکہ اور ہمارے شراکت دار شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ایران اور روس کی جانب سے شہریوں کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جس کی وجہ سے علاقہ کا استحکام متاثر ہوگیاہے ۔ کانگریس مین ای ڈی رائیس جو کہ ایوان کی امور خارجہ کی کمیٹی کے صدر نشین ہیں ۔ یہ بات بتائی۔ دریں اثنا بتایاگیاہے کہ یمن کی صورتحال مزید بگڑتی جارہی ہے ۔ کئی ملین افراد فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بعجلت ممکنہ کوئی معاہدہ طے کرکے قیام امن کو یقینی بنایاجائے۔

جواب چھوڑیں