سپریم کورٹ کے فیصلہ سے ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کمزور ہوا: مرکز

مرکزی حکومت نے آج سپریم کورٹ سے کہا کہ درج فہرست ذات و قبائل انسداد مظالم ایکٹ سے متعلق اس کے فیصلہ سے ملک میں بدنیتی، عوامی برہمی اور عدم رواداری کا تاثر پیدا ہوا ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سے عدالت عظمی کے سامنے تحریری طور پر پیش کئے گئے موقف میں اٹارنی جنرل نے اسے بہت ہی حساس مسئلہ بتاتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے سے ملک میں ناراضگی، غصہ اور اشتعال انگیز کی ماحول پیدا ہونے کے ساتھ باہمی ہم آہنگی کا ماحول بھی متاثر ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل وینو گوپال نے کہا کہ عاملہ ، مقننہ اور عدلیہ کے اپنے اپنے اختیارات ہیں اور ان کی خلاف ورزی نہیں کی جاسکتی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ عدالت عظمی کے فیصلے سے قانون کمزور ہوا ہے اور اس کی وجہ سے ملک کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ مرکزی حکومت نے اس پس منظرمیں عدالت عظمی سے 20 مارچ کے فیصلے پر نظر ثانی کرنے اور اپنے حکم کو واپس لینے کی درخواست کی ہے۔ واضح ر ہے کہ سماجی انصاف و تفویض اختیارات کی وزارت کے ذریعے حکومت نے اس معاملے میں عرضی دائر کرکے عدالت سے اپنے گزشتہ 20 مارچ کے حکم پر دوبارہ غور کرنے کی درخواست کی ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ درج فہرست ذات و قبائل کے خلاف مبینہ مظالم کے معاملات میں خود کار طریقے سے گرفتاری اور مقدمہ درج کرنے پر پابندی کے عدالت کے حکم سے 1989 کا یہ قانون ‘ غیر مؤثر’ ہو جائے گا۔ وزارت کی بھی دلیل ہے کہ سپریم کورٹ کے حالیہ حکم سے لوگوں میں متعلقہ قانون کا خوف کم ہو جائے گا اور ایس سی ؍ ایس ٹی کمیونٹی کے افراد کے خلاف تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔ سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں حکم دیا تھا کہ ایس سی ؍ ایس ٹی انسداد مظالم ایکٹ 1989 کے تحت درج مقدمات میں اعلی افسر کی اجازت کے بغیر ملزم افسران کی گرفتاری نہیں ہوگی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ گرفتاری سے پہلے الزامات کی ابتدائی جانچ ضروری ہے۔بنچ نے گرفتاری سے پہلے منظور ہونے والی ضمانت پر روک کو بھی ختم کر دیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کے بعد اب بدنیتی کے تحت درج کرائے گئے مقدمات میں پیشگی ضمانت بھی منظور ہو سکے گی۔ عدالت نے تسلیم کیا ہے کہ ایس سی؍ ایس ٹی ایکٹ کا غلط استعمال ہو رہا ہے۔عدالت کے اس فیصلے پر گزشتہ دو اپریل کو دلت تنظیموں کی طرف سے بھارت بند کا اہتمام کیا گیا تھا، جس سے مختلف ریاستوں میں عام زندگی درہم برہم ہوگئی تھی اور کئی مقامات پر آتشزدگی اور پر تشدد واقعات بھی ہوئے تھے۔

جواب چھوڑیں