شام کی صورتحال پر وزیراعظم برطانیہ کا اظہار تشویش

وزیراعظم برطانیہ تھریسامے نے شام کی صورتحال پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ وہ اپنے کابینی رفقاء کے ساتھ اجلاس میں صورتحال کاجائزہ لیں گی۔ یہ بات میڈیا کی رپورٹ میں بتائی گئی ہے ۔ وزیراعظم نے کہاہے کہ شام میں باغیوں کے خلاف کئے جارہے حملوں میں کیمیائی گیس کا بھی استعمال کیاجارہاہے جس کی وجہ سے علاقہ میں نہ صرف صورتحال دن بہ دن نہ صرف کشیدہ بلکہ تشویشناک ہوتی جارہی ہے ۔ وزیر اعظم برطانیہ کا کہناہے کہ شام کی افواج کی جانب سے باغیوں کو نکال باہر کرنے کے لیے شدید کاروائی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بتایا جاتاہے کہ ایسی گیس کا استعمال کیا جارہاہے جو کہ صحت کے لیے انتہائی مضر ثابت ہوتی ہے ۔ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے چہارشنبہ کو روس کو انتباہ دیا تھا کہ وہ اس طرح کی کاروائی سے ا حتراز کرے ورنہ امریکہ کاروائی کرنے پر مجبور ہوجائے گا جس کی ذمہ داری روس اور شام کے حکام پر عائد ہوگی۔ صدر امریکہ نے مزید کہا ہے کہ شام کے صدر بشارالاسد ماسکو کے اشتراک و تعاون سے باغیوں کے خلاف شدید کاروائی کررہے ہیں۔ جس کی وجہ سے صورتحال انتہائی تباہ کن اور تشویشناک ہوگئی ہے ۔ صدر امریکہ کا کہناہے کہ اگر روس اور شام کی جانب سے اس طرح کی کاروائیوں کا سلسلہ برقرار رہے تو امریکہ کاروائی کرنے پر مجبور ہوجائے گا اور اس وقت کی صورتحال کے لیے روس اور شام کے حکام ذمہ دار رہیں گے ۔ تھریسامے کے ترجمان نے مزید بتایاہے کہ وزیراعظم برطانیہ شام کی صورتحال کاجائزہ لینے کے لیے کابینہ کااجلاس منعقد کی ہیں۔ اس ہنگامی اجلاس میں وہ رفقاء کو ملک کے موقف سے بھی واقف کروائیں گی ۔ خبر رساں ادارہ نے یہ بات بتائی اور کہا ہے کہ وزیراعظم برطانیہ کی جانب سے یہ کہہ دیاگیاہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے کی جانے والی کاراوئی میں حصہ لے گا ۔ اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہیں ہوتی۔ ڈیلی ٹیلی گراف نے بتایا کہ وزیراعظم برطانیہ نے آبدوزوں سے متعلق عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ وہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار رہیںکیونکہ شام کے خلاف امریکہ اور بعض دوسرے ممالک کی جانب سے کاروائی کے امکانات کو مسترد نہیں کیاجاسکتا ۔ وزیراعظم برطانیہ نے یہ بھی کہا ہے کہ آج رات دیر گئے سے ہی حکام کو تیار رہناچاہئے تاکہ ناگہانی صورتحال سے فوراًنمٹا جاسکے ۔ شام میں باغیو ںکے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال ساری دنیا میں موضوع بحث بن گیاہے اور کئی ممالک اس طرح کے ہتھیاروں کے استعمال کی شدید مذمت کررہے ہیں۔ سرکاری عہدیداروں نے مزید کہاہے کہ اگر برطانیہ ‘امریکہ کے ساتھ کاروائی میں حصہ ادا کرے تو اس کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری ضروری نہیں ہوتی۔ ڈوما اور دوسرے علاقوں میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے کئے گئے حملوں پر وزیراعظم برطانیہ نے کہا ہے کہ اس سلسلہ میں ہمیں اطلاعات ملی ہیںجس کی وجہ سے کئی درجن افراد ہلاک ہوگئے اور کئی افراد اب بھی دواخانہ میں زیر علاج ہیں جو کہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ یہ بات بتائی عالم صحت تنظیم کے ذرائع کے حوالے سے بتائی ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ شام کے مقام ڈوما میں ہفتہ کو بھی کیمیائی ہتھیاروں کااستعمال کیاگیا۔ اس طرح کی بربریت سے ہم کو شدید دکھ ہواہے ۔ انہوں نے اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی اور کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کا جو استعمال کیاگیاہے وہ کسی صورت میں مناسب نہیں ہوتا ۔ اس دوران وائٹ ہاوز کی ترجمان سارا سینڈرس نے کہاہے کہ صدر امریکہ کی جانب سے روس کو انتباہ دیدیاگیاہے اور اب روس کو امریکہ اور اس کی حلیفوں کی کاروائیوں کاسامناکرنے کے لیے تیار رہناہوگا۔انہوں نے اخباری نمائندوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہاہے کہ صدر امریکہ نے بارہا اس سلسلہ میں شام اور روس کو ہدایت دی لیکن اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے اس لیے اب ہم کاروائی کرنے کامنصوبہ بنارہے ہیں۔ اس دوران سفارتی ذرائع نے بتایا ہے کہ کابینہ کے ارکان کی جانب سے وزیر اعظم برطانیہ کے موقف کی تائید کی جائے گی کیونکہ وہ شام کی صورتحال کے تعلق سے متفکر ہیں اور اب جبکہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جانب سے شام کے میں کاروائی کا جو انتباہ دیاگیاہے اس سے وزیراعظم برطانیہ اظہار رضا مندی کرتے ہوئے کہاہے کہ برطانیہ کی امریکہ کی کاروائی میں تعاون کرے گا تاکہ شام میں بعجلت ممکنہ صورتحال کو معمول پر لایاجاسکے ۔

جواب چھوڑیں