مودی‘ شاہ کی قیادت میں بی جے پی ایم پیز کی بھوک ہڑتال

وزیر اعظم نریندرمودی اور بی جے پی صدر امیت شاہ نے بی جے پی ارکان پارلیمان کے ساتھ بھوک ہڑتال کا ملک بھر میں آغاز کیا تاکہ پارلیمنٹ کے بجٹ سیشن کے دوسرے نصف کو بھی کسی کارروائی کے بغیر ختم کردیئے جانے پر احتجاج کیا جاسکے جس کیلئے بی جے پی نے کانگریس پر الزام عائد کیا ہے مودی نے بھوک ہڑتال شروع کی۔ حالانکہ انہوںنے اپنے سرکاری کام کو جاری رکھا جن میں چینائی کے قریب تروویدانتھے میں 10ویں ڈیفنس ایکسپو کا افتتاح بھی کیا۔ شاہ نے کرناٹک میں پارٹی کے چیف منسٹر امیدوار بی ایس یدیوراپا اور دیگر پارلیمنٹ کے ارکان کے ساتھ دھاڑ وار میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ شاہ نے کانگریس پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ پارلیمنٹ میں رکاوٹ ڈالنے کی وہ ذمہ دار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں حکمراں پارٹی بی جے پی کیخلاف یہ پہلی مرتبہ کیا گیا ہے جبکہ بی جے پی ہر مسئلہ پر بحث کرنے تیار تھی لیکن اپوزیشن مباحث سے گریز کررہا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے ارکان پارلیمان نے اپنے اپنے حلقوں میں بھوک ہڑتال شروع کی جبکہ راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمان نے بطور احتجاج مختلف مقامات پر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ وزیر دفاع نرملا سیتارمن جو ڈیفنس ایکسپو میں شامل تھی انہوںنے بھی بھوک ہڑتال میں حصہ لیا۔ دہلی میں تمام 7بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ ۔ مرکزی وزیر ہرش وردھن جو چاندی چوک حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں ‘ مشرقی دہلی کے رکن پارلیمنٹ مہیش گری ‘ نئی دہلی کے رکن پارلیمنٹ میناکشی لیکھی ‘ مغربی دہلی کے ایم پی پرویش ورما‘ شمال مغربی دہلی کے ایم پی ادت راج ‘ جنوبی دہلی کے ایم پی رمیش بھیدوری اور شمال مشرقی دہلی کے ایم پی منوج تیواری بھی بھوک ہڑتال میں حصہ لے رہے ہیںجو5بجے شام ختم ہوگی۔ شہری ہوا بازی کے وزیر سریش پربھو بھی ان کے ساتھ شامل ہوگئے۔ تیواری جو دہلی بی جے پی صدر بھی ہے نے کہاکہ وہ اپنی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال کو جاری رکھیں گے تاکہ ان کے حلقہ میں دہلی کی اروند کجریوال حکومت کی جانب سے مسلسل ترقیاتی کاموں کو نظر انداز کئے جانے پر احتجاج کیا جاسکے۔ بجٹ سیشن کا آغاز 29جنوری کو ہوا تھا اور9فروری کو وقفہ دیا گیا۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کا اجلاس دوسرے نصف کے دوران 5مارچ کو شروع ہوا اور جمعہ کو اس کا اختتام عمل میں آیا جبکہ سیشن کے پہلے نصف جنوری 31تا9 فروری کے دوران 134فیصد لوک سبھا میں کام کاج ہوا 96 فیصد راجیہ سبھا میں کارکردگی ہوئی۔ دوسرے نصف کے دوران جو 5مارچ تا6اپریل تک تھا ایوان زیریں میں صرف 4فیصد کام کاج ہوا اور ایوان بالا میں 8فیصد کام ہوسکا۔ یواین آئی کے بموجب دہلی سے تعلق رکھنے والے بی جے پی ارکان پارلیمنٹ بشمول مرکزی وزیر ماحولیات ہرش وردھن دن بھر کیلئے بھوک ہڑتال کی جبکہ شہر کے مختلف مقامات پر بجٹ سیشن کے دوسرے نصف کو مفلوج کر دینے پر بطور احتجاج یہ اقدام کیا گیاجس کیلئے کانگریس اور دیگر پارٹیوں کو ذمہ دار قراردیا جارہا ہے۔ ڈاکٹر وردھن اپنے پارٹی ورکر کے ساتھ چاندنی چوک ٹائون ہال میں بھوک ہڑتال شروع کی۔ مشرقی دہلی کے ایم پی مہیش گری کاربازار نزد لکشمی نگر میٹرو اسٹیشن اور شمال مشرقی دہلی ایم پی اور بی جے پی ریاستی صدر منوج تیواری نے شاستری پارک پر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا دیگر ارکان پارلیمان جنہوںنے بھوک ہڑتال میں حصہ لیا وہ ہے نئی دہلی کے ایم پی میناکشی لیکھی‘ شمال مشرق دہلی کے ایم پی اودت راج اور مغربی دہلی کے ایم پی پرویش ساحب سنگھ ہے۔ دہلی اسمبلی اپوزیشن لیڈر بی جے پی ایم ایل اے وجیندر گپتا ‘ ڈاکٹر اودت راج کے ہمراہ روہنی ڈی سی چائوک پر بھوک ہڑتال شروع کی جبکہ مس لیکھی سی پی ایس کے ہنومان مندر میں بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔ مرکزی وزیر سریش پربھو اور وجئے گوئل نے بھی احتجاج میں حصہ لیا۔ شمال مشرقی دہلی کے ایم پی منوج تیواری نے کہاکہ ان کا مقصد جمہوریت کو بچانا ہے۔ وزیر اعظم نریندرمودی اور پارٹی صدر امیت شاہ نے بھی بی جے پی ارکان پارلیمان کے ساتھ اس مسئلہ پر بھوک ہڑتال کا آغاز کیا۔

جواب چھوڑیں