ہندو مذہب کی توہین کرنے والوں کے خلاف کاروائی کی ہدایت:پاکستان

پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے وزارت داخلہ سے کہاہے کہ وہ ایسے گروپس یاافراد کے خلاف کاروائی کرے جو کہ ہندو مذہب کے تعلق سے اہانت کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ سردار ایاز نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتی فرقہ کے قائدین کی جانب سے احتجاج کیاجارہاہے کہ ان کے مذہب کی اہانت کی جارہی ہے اور ہندو مذہب کی توہین کرنے والوں کے خلاف حکام موثر کاروائی کرنے میںناکام ہوگئے ہیں۔ اقلیتی فرقہ کے قائدین نے کہاہے کہ ایسی تقاریر کی جارہی ہیں جس کی وجہ سے ہندوکے جذبات مجروح ہورہے ہیں۔ اسپیکر نے ہندو لیجسلیچر کی جانب سے شروع کردہ احتجاج کے بعد اس طرح کی ہدایات جاری کی ہیں۔ ڈان نے یہ اطلاع دی اور بتایا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے صدر نشین عمران خان کو ملوث کیاگیا ہے جس کی وجہ سے ہندوؤں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ رمیش لال نے اس سلسلہ میں توجہ مبذول کروائی جس کے بعد پاکستان قومی اسمبلی کے اسپیکر سرتاج ایاز صادق نے وزارت داخلہ کو ضروری ہدایات دی ہیں۔ رمیش لال نے مطالبہ کیاہے کہ ہندو مذہب کی اہانت کرنے والے افراد اور سازشیوں کے خلاف کاروائی کی جانی چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ اگر تحقیقات کی جائیں تو حقائق منظر عام پر آئیں گے ۔ ایک اور پارلیمنٹرین لال چند ماتھی نے کہا کہ مہم چلاتے ہوئے پاکستان میں اقلیتی فرقہ کے افراد کو نشانہ بنایا جارہاہے ۔ اس طرح شر پسندی کرنے والے افراد کے خلاف کوئی موثر کاروائی نہیں کی جارہی ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے عزائم کی تکمیل کا موقع مل رہاہے ۔اسپیکر نے وزیر داخلہ ٹی چودھری کو ہدایت دی ہے کہ اندرون 7 دن تحقیقات مکمل کرلی جائیں ۔ اور مجرمین کے خلاف فیڈرل انوسٹی گیشن ایجنسی میں شکایت درج کروائی جائے ۔ لال چند نے کہاکہ وہ ماتھی کے ساتھ چودھری کو ایک شکایت پیش کریں گے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سوشیل میڈیا کی جانب سے ہندو فرقہ کے خلاف مہم دو ہفتوں سے جاری ہے ۔ قبل ازیں ایوان میں پی ٹی آئی کے نائب صدر نشین شاہ محمد قریشی نے کہاکہ ان کی پارٹی مکمل طور پر ہندو فرقہ کی تائید کرتی ہے ۔ چودھری نے مزید کہا ہے کہ حکومت اس طرح کے عمل کی شدید مذمت کرتی ہے اور ایسے افراد کو منظر عام پر لایا جائے گا جو کہ ہندو کے مذہب کی توہین میں ملوث ہیں۔

جواب چھوڑیں