شام کی صورتحال‘ صدر امریکہ کی عہدیداروں کے ساتھ بات چیت

صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے قومی سلامتی کے مدد گاروں نے شام کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کارروائی کے تعلق سے غور وخوض کیا ہے۔ امریکہ کے صدر نے شام کے خلاف کارروائی کی دھمکی تھی تاکہ باغیوں کے خلاف زہریلی گیاس کے مزید استعمال کو روکا جاسکے۔ اس دوران وائٹ ہائوز کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایاگیا ہے کہ صدر امریکہ نے اپنی نیشنل سیکوریٹی ٹیم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے شام کی صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس موقع پر شام کے خلاف فضائی حملوں کے تعلق سے قطعی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ وائٹ ہائوز کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہاہے کہ صدر امریکہ اپنے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس میں شام کی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوںنے وزیر اعظم برطانیہ تھریسامے کے ساتھ بھی بات چیت کی تاکہ شام میں بہ عجلت ممکنہ بحال امن کی راہ ہموار کی جاسکے۔ وائٹ ہائوز کے ذرائع نے یہ بات بتائی اور کہاہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کئے جانے پر دنیا کے مختلف ممالک نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ صدرامریکہ کی جانب سے شا م کیخلاف کارروائی کی دھمکی کے بعد واشنگٹن اور روس کے درمیان کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔ یہ بات روس کے عہدیدار نے بتائی اور کہاہے کہ اگر امریکہ شام کیخلاف کارروائی کرے تو اس کی وجہ سے روس اور امریکہ کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجائے گا۔ صدر امریکہ نے چہارشنبہ کو کہا تھا کہ دوما میں زہریلی گیاس کے حملہ کے بعد شام میں کارروائی کی جائے گی اور روس کو امریکہ کے حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا کیونکہ امریکہ کی جانب سے فضائی حملے شروع کردیئے جائیں گے۔ امریکہ کے اس موقف کے بعد برطانیہ اور فرانس نے بھی تائید کی تھی اور بشارالاسد کو اس طرح کی گیاس کے استعمال سے روکنے کیلئے مجبور کرنے کے عزائم کا اظہار کیا گیا تھا۔

جواب چھوڑیں