عرب لیگ کا کل اجلاس ‘ایجنڈہ میں قطر بحران شامل بحث نہیں

خلیج کا بحران جس کی وجہ سے قطر دوسرے ممالک سے دور ہوگیا ہے اس تنازعہ کی یکسوئی کی اگرچہ کہ کوشش کی جارہی ہے لیکن سمجھا جاتا ہے کہ عرب سربراہ کانفرنس میں اس مسئلہ پر غور نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات ریاض کے وزیر خارجہ نے آج یہاں یہ بات بتائی اور کہاکہ عرب لیگ کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے لیکن قطر کے مسئلہ پر غور نہیں کیا جائے گا۔ وزیر خارجہ عبدالالزبیر نے اخباری نمائندوں کے ساتھ ریاض میں بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی جبکہ عرب سربراہان کا اجلاس منعقد ہونے والا ہے۔ انہوںنے مزید بتایا ہے کہ قطر کے بحران کی یکسوئی جی سی سی کے دائرہ کار میں ہے۔ خلیج تعاون کونسل کی جانب سے اس سلسلہ میں پیشرفت کی جاسکتی ہے۔ اس سوال پر کہ آیا اجلاس میں جوکہ اتوار کو منعقد ہورہا ہے قطر کے مسئلہ کا جائزہ لیا جائے گا تو انہوںنے کہاکہ عرب لیگ کے اجلاس میں مذکورہ مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا۔ اس اجلاس کی میزبانی سعودی عرب کی جانب سے کی جارہی ہے، جس میں 22عرب لیگ ممبر ریاستوں کے 21ارکان شرکت کریں گے جبکہ شام کو 2011کے بعد سے سربراہ کانفرنس میں شرکت سے معطل کردیا گیا ہے کیونکہ شام کی حکومت کی جانب سے باغیوں کیخلاف پرتشدد کارروائی کی جارہی ہے۔ جنگ کے تعلق سے حکومت کا رول عرب لیگ کیلئے ناپسند ہے۔ قطر نے عرب چوٹی کانفرنس میں شرکت کی توثیق کی۔ 10ماہ طویل خلیجی بحران کی وجہ سے کئی مسائل پیش آرہے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ‘ مصر اور بحرین نے قطر کی شرکت کی مخالفت کی اور کہاہے کہ قطر کا مسئلہ موضوع بحث بن گیا ہے ، اس لئے قطر کو شرکت کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ بتایاجاتا ہے کہ سعودی عرب اور قطر دنیا کے مختلف ممالک کو قدرتی گیاس برآمد کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہیں۔ ریاض اور اس کے حلیفوں نے جون میں دوحہ سے تعلقات منقطع کرلئے اور قطر پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ تہران کے ساتھ روابط برقراررکھتے ہوئے اسلامی انتہا پسندوں کی مدد کررہا ہے۔

جواب چھوڑیں