نواز شریف ‘ تاحیات نااہل ۔پاکستان سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ

پاکستان کی سپریم کورٹ نے جمعہ کے دن سابق وزیراعظم نواز شریف کو سرکاری عہدہ یا الیکشن لڑنے سے تاحیات نااہل قرار دے دیا۔ یہ تاریخی فیصلہ ملک کی سیاسی تاریخ کا رخ بدل دے گا۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے 5 رکنی بنچ کا متفقہ فیصلہ پڑھ کر سنایا۔ آئین کی دفعہ 62(1)(f) کے تحت نواز شریف‘ پاکستان تحریک انصاف کے جہانگیر ترین اور دیگر قائدین کا سیاسی مستقبل ختم ہوگیا ہے۔ رولنگ میں کہا گیا کہ دفعہ 62(1)(f) کے تحت کسی رکن پارلیمنٹ یا سرکاری ملازم کی نااہلی مستقبل میں مستقل ہوگی۔ ایسا شخص نہ تو الیکشن لڑسکتا ہے اور نہ رکن پارلیمنٹ بن سکتا ہے۔ دفعہ 62(1)(f) پاکستانی پارلیمنٹ کا رکن بننے کی شرط اولین ’’صادق اور امین ‘‘ ہوتا ہے۔ اسی کے تحت نواز شریف کو 2017 میں نام نہاد پنامہ پیپرس کیس میں نااہل قراردیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے 28 جولائی کو انہیں اس بنیاد پر برخواست کردیا تھا کہ انہوں نے متحدہ عرب امارات میں اپنے لڑکے کی کمپنی سے انہیں حاصل ہونے والی آمدنی کا ذکر اپنے کاغذات نامزدگی میں نہیں کیا تھا۔اسی طرح جہانگیر ترین دسمبر میں نااہل قرار پائے تھے۔ سپریم کورٹ کے آج کے فیصلہ پر جہانگیر ترین نے ٹویٹر پر کہا کہ تاحیات نااہلی کی رولنگ ا ن کے معاملہ میں قابل قبول نہیں ہے۔ میرا ہمیشہ ماننا ہے کہ دفعہ 62(1)(f) میرے کیس میں لاگو نہیں۔ میری درخواست نظرثانی زیرالتوا ہے اور انصاف ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی قائد خورشید شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ آئین کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی پی پی پی نے نواز شریف سے بارہا کہا کہ سیاستدانوں کے مقدر کا فیصلہ پارلیمنٹ کو کرنے دیجئے لیکن انہوں نے بات نہیں سنی اور سپریم کورٹ گئے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کی وزیر اطلاعات مریم اورنگ زیب نے فیصلہ کو مذاق قراردیا جو سابق وزرائے اعظم سے کیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ویسا ہی فیصلہ ہے جس کے نتیجہ میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی‘ بے نظیر بھٹو کا قتل ہوا اور نواز شریف نااہل قرار پائے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) قائد چودھری فیصل حسین نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کی ستائش کی۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے خاتون ورکرس اور کارکنوں نے سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کیا۔

جواب چھوڑیں