کٹھوعہ عصمت ریزی متاثرہ کی شناخت کیلئے میڈیا ذمہ دار :دہلی ہائی کورٹ

دہلی ہائی کورٹ نے آج متعدد میڈیا کے گھرانوں کو نوٹسیں جاری کی ہیں ، جنہوں نے آٹھ سالہ لڑکی کی جموں و کشمیر کے کٹھوعہ میں اجتماعی آبرو ریزی اور قتل کے سلسلہ میں اس کی نشاندہی کی ہے اور ان پر امتناع عائد کردیا ہے کہ وہ مزید اس کی نشاندہی کا انکشاف کرنے سے گریز کریں ۔ ہائی کورٹ جس نے اپنے طور پر معاملہ کو ہاتھ میں لیا ہے ، جب میڈیا کی اطلاعات اسے موصول ہوئیں اور کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے اور انتہائی افسوس کی بات ہے کہ متاثرہ لڑکی کی تصویر کو بھی الیکٹرانک میڈیا نے جاری کردیا ہے ۔ کارگذار چیف جسٹس گیتا متل اور جسٹس ہری شنکر پر مشتمل بنچ نے متعدد میڈیا کے گھرانوں کو نوٹسیں جاری کی ہیں ، جن کی اطلاعات پر عدالت نے ان سے جواب طلب کیا ہے اور دریافت کیا ہے کہ کیوں نہ ان کے خلاف کارروائی کی جائے ۔ ساری میڈیا کے خلاف کارروائی ہورہی ہے۔ عدالت نے میڈیا کو ہدایت دی ہے کہ لڑکی کے نام سے متعلق کوئی تفصیلات ، تصاویر ، اسکول کا نام اور دیگر تفصیلات جس سے اس کی نشاندہی ہوسکے ظاہر نہ کی جائے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ اطلاعات جو خبروں سے ملی ہیں وہ عدمِ احترام اور خلاف ورزی کے مترادف ہے ، جو کسی بھی متاثرہ کی شخصی و نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف ہے۔ اس کی اجازت کسی بھی حالت میں نہیں دی جاسکتی ۔ بنچ نے کہا کہ ایسی گنجائش ہے کہ پینل لا اور پی او سی ایس او قانون کے تحت اس قسم کی رپورٹنگ جس سے متاثرہ لڑکی یا شخص کی ذاتی زندگی پر اثر پڑتا ہو وہ ممنوع ہے، جن میں بچے اور جنسی جرائم بھی شامل ہیں۔ 8 سالہ بچی کٹھوعہ گاؤں کے قریب اپنے مکان سے 10 جنوری کو لاپتہ ہوگئی تھی۔ اس کی نعش اسی علاقہ میں ایک ہفتہ بعد دستیاب ہوئی ۔ ریاستی پولیس کرائم برانچ جس نے کیس کی جانچ کی ہے اور ایک اہم چارج شیٹ 7 افراد کے خلاف درج کی ہے اور ایک علیحدہ چارج شیٹ بچوں کی کٹھوعہ ضلع عدالت میں جاریہ ہفتہ داخل کردی تھی ۔ چارج شیٹ میں یہ انکشاف کیا گیا کہ کس طرح لڑکی کا مبینہ طور پر اغوا کیا گیا اور اس کی عصمت ریزی ایک عبادت گاہ کے مقام پر کی گئی اور پھر اسے ہلاک کردیا گیا ۔

جواب چھوڑیں