خواتین اورکمسن لڑکیوں پر تشدد واقعات میں اضافہ افسوسناک ::این نرسمہاریڈی

تلنگانہ کے وزیر داخلہ این نرسمہاریڈی ‘ٹی آرایس ایم پی کے کویتا اور فلمی ادارکارسے سیاستداں بننے والے پون کلیان نے ملک بھر میں خواتین اورکمسن لڑکیوں کے خلاف تشددکے بڑھتے واقعات پر سخت تشویش کااظہار کیا۔ان قائدین نے انائو اورکھٹوعہ واقعات کے پس منظرمیں یہ بات کہی۔ سماج میں اس طرح کے مظالم کے واقعات میں بتدریج اضافہ تکلیف دہ بات ہے ۔ این نرسمہاریڈی نے ہفتہ کویہاں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ انہوںنے کہاکہ خواتین اورکمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی اورقتل کے واقعات میں ملوث افراد کوپھانسی کی سزادی جانی چاہئے ۔دلتوں اور خواتین پرمظالم کے واقعات میں اضافہ پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کے کویتانے کہاکہ مرکزی حکومت کو اس سلسلہ میں مداخلت کرتے ہوئے انصاف کویقینی بنانا چاہئے ۔ انہوںنے کہاکہ چاہے انادواقعہ ہویا جموں وکشمیرکے کھٹوعہ کاواقعہ ہو‘ دونوں واقعات غیر انسانی ہیںان واقعات سے انسانیت کاسر شرم سے جھک جاتاہے۔ ایک خاتون کی حیثیت سے میں ان واقعات کی مذمت کرتی ہوں۔ نمائندہ منصف کے بموجب ٹی آرایس کی خاتون رکن پارلیمنٹ کے کویتا نے بی جے پی کی مرکزی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ مرکزمیں بی جے پی کے اقتدار پرفائزہونے کے بعد خواتین اور کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی اور قتل کے واقعات میں اضافہ ہوگیاہے۔ بی جے پی کے برسراقتدار ریاستوں میں بھی خواتین اور کمسن لڑکیوں کی عصمت ریزی کے ملزمین کے خلاف سخت قانونی کاروائی کرنے کے بجائے انہیں تحفظ فراہم کیاجارہاہے ۔ انہیوںنے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیاکہ وہ خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کرے۔ کے کویتانے کہاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے ایس سی ‘ایس ٹی دیگر بی سی طبقات کوحاصل تحفظات برخواست کرنے کے لئے کوشش کی جارہی ہے ۔مگر ٹی آرایس قائدین مرکزی حکومت کی اس سازش کو ناکام بنادیں گے ۔ انہوںنے کہاکہ حکومت تلنگانہ نے گذشتہ 4سال کے دوران دلتوں کی بہبود کے لئے 22400کروڑ روپے خرچ کئے ہیں۔بجٹ میں مختص رقم کو دلتوں کی بہبود پر خرچ کیاجائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ایس سی ‘ایس ٹی ایکٹ کوکمزور کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

جواب چھوڑیں