شام پر امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس کا فضائی حملہ

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فضائی حملوں کے اعلان کے بعد شام کا دارالحکومت دمشق زوردار دھماکوں سے دہل گیا۔ آسمان دھویں سے بھر گیا۔ امریکی نیوز ایجنسی اسوسی ایٹیڈ پریس( اے پی) کے نمائندوں نے مشرقی دمشق سے دھواں اٹھتا دیکھا۔ آسمان کا رنگ بدل گیا تھا۔مشرق میں مہیب آگ دیکھی گئی۔ شامی ٹی وی نے اطلاع دی کہ ایک سائنٹفک ریسرچ سنٹر نشانہ بنا۔ شام کی فضائیہ نے دمشق کے جنوب میں آنے والی 13 مزائلوں کو مار گرایا۔ حملہ ختم ہونے کے بعد دمشق کی سڑکوں پر لاؤڈ اسپیکرس لگی گاڑیاں قومی ترانہ / گیت بجاتے گذریں۔ فضائی حملہ شرو ع ہونے کے بعد شام کی صدارت نے ٹویٹ کیا کہ نیک لوگوں کو ذلیل نہیں کیا جاسکے گا۔ شام کے سرکاری ٹی وی نے حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قراردیا۔ ٹرمپ نے جمعہ کی رات اعلان کیا تھا کہ 3 حلیفوں نے فوجی حملے شروع کئے ہیں تاکہ مبینہ کیمیائی حملوں کے لئے شام کے صدر بشارالاسد کو سزا دی جائے اور انہیں کیمیائی اسلحہ کے دوبارہ استعمال سے باز رکھا جائے۔ امریکی صدر نے کہا کہ واشنگٹن‘ اسد پر دباؤ برقرار رکھنے کے لئے تیار ہے۔ حکومت شام نے کیمیائی اسلحہ کے استعمال کی بارہا تردید کی ہے۔ امریکی وزیر دفاع جیمس میاٹس نے کہا کہ ابتدائی فضائی حملوں میں امریکہ کے کسی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔ برطانیہ کی وزارتِ دفاع نے کہا کہ حملہ کتنا کارگر رہا اس کا تجزیہ کیا جارہا ہے۔ دمشق سے آئی اے این ایس کے بموجب امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس نے شام کے ریسرچ ‘ اسٹوریج اور ملٹری ٹارگٹس کے خلاف مشترکہ حملے کئے۔ دی نیویارک ٹائمس نے اطلاع دی کہ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤز کے ڈپلومیٹک ریسیپشن روم سے کہا کہ میں نے امریکی مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ شامی آمر بشارالاسدکے کیمیکل اسلحہ سے جڑے ٹارگٹس پر ٹھیک ٹھیک نشانہ لگایا جائے۔ سی این این کے بموجب ٹرمپ نے اشارہ دیا کہ حملے حکومت شام کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بند کرنے تک جاری رہیں گے۔ دمشق کے قریب ایک سائنٹفک ریسرچ سنٹر کو نشانہ بنایا گیا ۔ حمص کے قریب کیمیائی اسلحہ کے گودام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ قریب میں واقع ایک کمپاؤنڈ پوسٹ بھی نشانہ بنا۔ سیرین آبزرویٹری کے بموجب شامی فوج کے چوتھے ڈیویژن اور ریپبلکن گارڈ کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی دفاعی عہدیداروں نے کہا کہ امریکی طیارہ بشمول B-1 بمبار اور جہاز حملہ میں استعمال ہوئے۔ عینی شاہدین نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے دمشق میں دھماکے سنے جو ٹرمپ کے خطاب کے دوران ہی شروع ہوگئے تھے۔ دمشق کے شہری کئی دھماکوں کی آواز سن کر نیند سے جاگ پڑے جنہوں نے نماز فجر سے قبل شہر کو دہلادیا تھا۔ شام کے سرکاری ٹی وی نے کہا کہ حکومت کا ایر ڈیفنس سسٹم ’’امریکی جارحیت‘‘ کا جواب دے رہا ہے۔ اس نے مزائل داغے جانے کا ویڈیو دکھایا۔ جرمنی نے حملہ میں حصہ لینے سے انکار کردیا۔ برطانوی وزیراعظم تھیریسا مے نے کہا کہ شام نے کوئی اختیار ہی نہیں چھوڑا تھا۔ پی ٹی آئی کے بموجب امریکہ‘ برطانیہ اور فرانس نے آج بشارالاسد کی حکومت شام کے خلاف فوجی حملے کئے۔ امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ مشترکہ کارروائی کا مقصد‘ کیمیائی اسلحہ کی تیاری‘ پھیلاؤ اور استعمال کے خلاف ’’سخت مزاحمت‘‘ قائم کرنا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ‘ شام پر دباؤ برقرار رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ‘ شام میں غیرمعینہ مدت تک رہنا نہیں چاہتا۔ انہوں نے شام کے خلاف لڑائی میں حصہ لینے پر برطانیہ اور فرانس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بشارالاسد کا ساتھ دینے والے ایران اور روس کے حوالہ سے کہا کہ دنیا کے ممالک اپنے دوستوں کے حوالہ سے جانچے پرکھے جائیں گے۔ سرکش ممالک‘ ظالم حکمرانوں اور قاتل آمروں کا ساتھ دینے والا کوئی بھی ملک زیادہ دن کامیاب نہیں رہے گا۔ ماسکو سے اے ایف پی کے بموجب روس کی وزارت ِ خارجہ نے آج کہا کہ شام پر مغربی ممالک کا حملہ ایسے وقت ہوا ہے جبکہ ملک میں پرامن مستقبل کا امکان تھا۔

جواب چھوڑیں