شام پر فضائی حملوں کافیصلہ ‘ریپبلکن کی جانب سے ٹرمپ کی ستائش

ریپبلکن پارٹی کے قانون سازوں نے شامی کیمیائی اسلحہ انفراسٹرکچر پر فضائی حملہ کرنے ٹرمپ کے فیصلہ کا خیر مقدم کیا ۔ دوسری طرف ڈیموکریٹس نے روس کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے ماسکو پر الزام عائد کیا کہ وہ حافظ اسعد کی حکومت کے خود اس کی عوام کے خلاف مظالم کے پس پردہ ماسکو موجود ہے ۔ ایک مشترکہ کاروائی میں امریکہ ‘برطانیہ ‘فرانس نے آج بشارالاسد کی شامی حکومت کے خلاف فوجی حملوں کا آغاز کردیا۔ اس سے تقریباً ایک ہفتہ قبل دارالحکومت دمشق کے باہر مشتبہ فضائی حملہ میں 40 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ طاقتور آرمڈ سرویسس کمیٹی کے صدر نشین سنیٹر جان میکن نے بتایا کہ اسد حکومت کے تازہ ترین کیمیائی اسلحہ کے استعمال کے خلاف فوجی کاروائی پر ٹرمپ کی ستائش کی جاتی ہے اور اس سے اس بات کا اظہار ہوتاہے کہ اگر یہ حملے جاری رہیں تو دوبارہ اسی کاروائی کا عزم کیاگیاہے ۔ میکن نے بتایا کہ اسد کو یہ پیام دیاجاناچاہئے کہ کیمیائی اسلحہ کے استعمال کی قیمت کسی بھی تصوری فائدہ سے بد تر ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس پیام سے اس بات کا اظہار ہوناچاہئے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں میں اس قیمت کے نفاذ کو جاری رکھنے کاعزم اور اس کی اہلیت موجود ہے جبکہ ایران اور روس بالاخر ہمارے تعزیری رد عمل سے اسد کے تحفظ میں بالآخر ناکام رہے ہیں گے ۔ میکن نے بتایا کہ طویل عرصہ تک کامیابی کے لیے ضرورت ہے کہ ہم شام اور سارے علاقہ کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے حامل ہوں ۔ علاوہ ازیں صدر کو ہمارے مقاصد کا تعین صرف داعش کے لیے نہیں بلکہ موجودہ شامی تنازعہ کے لیے کرناچاہئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وسیع تر حکمت عملی سے غیر مربوط حملہ ضروری ہوسکتے ہیں لیکن صرف ان حملوں سے مشرق وسطی میں امریکی مقاصد کی تکمیل نہیں ہوں گی ۔ تاہم ڈیموکریٹک قائد نینسی پلوسی نے بتایا کہ واضح جامع شامی حکمت عملی کے متبادل کی حیثیت سے ایک رات کے فضائی حملے ناکافی ہیں۔ نینسی نے بتایا کہ صدر کو چاہئے کہ وہ کانگریس آئیں اور واضح مقاصد جن کے ذریعہ ہماری فوج محفوظ رہے اور ساتھ ہی ساتھ بے قصور شہریوں کو ہونے والے نقصان سے گریز کرنے جامع حکمت عملی کی پیشکشی کے ساتھ فوجی طاقت کے استعمال کی اجازت حاصل کرنی چاہئے ۔ صدر ٹرمپ کو چاہئے کہ وہ شامی عوام کے خلاف اسد حکومت کے مظالم کے قابل بنانے پر پوٹین کو جوابدہ بنائیں ۔ ایوان کے اسپیکر پال ریان نے بتایا کہ امریکہ نے اپنے حلیفوں کے تال میل کے ساتھ فیصلہ کن کاروائی کی ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم اپنے اس عزم میں متحد ہیں کہ اسد کی جانب سے کیمیائی اسلحہ کے وحشیانہ استعمال بلا رد عمل دیئے نہیں رہے گا ۔

جواب چھوڑیں