شام پر فضائی حملوں کے خلاف ایران کا انتباہ

امریکہ ‘برطانیہ ‘فرانس کی جانب سے شام میں تعزیری حملوں کی لہر کے بعد آج ایران نے ان حملوں کے علاقائی نتائج کی دھمکی دی ہے ۔ وزارت خارجہ کے ایک بیان میں بتایا گیاہے کہ امریکہ اور اس کے حلیفوں کے پاس کوئی ثبوت موجود نہیں اور کیمیائی اسلحہ پر امتناع کی تنظیم کی جانب سے کسی موقف کے اختیار کئے جانے سے قبل انتظار تک نہیں کرتے ہوئے یہ فوجی حملے کئے گئے ہیں۔ بیان میں بتایاگیاہے کہ وہ مہم پسندانہ کاروائی کے علاقائی نتائج کے ذمہ دار ہیں ۔ بیان میں بین الاقوامی قائد اور قوانین کی واضح خلا ف ورزی کی مذمت کی گئی ہے ۔ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کو روس کے ساتھ ہی ساتھ ایران بھی مدد کررہاہے اس کے علاوہ وہ فوجی مشیران اور رضا کاروں ( بری فوج ) بھی فراہم کررہاہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مغربی طاقتیں ‘ باغیوں کے زیر قبضہ مضبوط گڑھ پر گذشتہ ہفتہ مبینہ کیمیائی حملہ کے عذر کے طور پر اسے استعمال کررہے ہیں تاکہ میدان جنگ میں شامی حکومت کی حالیہ کامیابیوں کو دھکہ پہنچایاجائے ۔ ایران کی وزارت خارجہ نے بتایا کہ اس جارحیت کا مقصد مشرقی غوطہ میں دہشت گردوں کی شکست کی پابجائی ہے ۔ اس علاقہ کو حال ہی میں شامی فوج نے اپنے قبضہ میں لے لیاہے ۔ بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کی علامت میں 7ایرانی پیر کو شامی فوجی اڈہ پر ہوئے فضائی حملہ میں ہلاک ہوئے تاہم ایران اس کاالزام اسرائیل پر عائد کررہاہے ۔

جواب چھوڑیں