شام پر فضائی حملہ:ایران و حزب اللہ کیلئے ایک اہم اشارہ :اسرائیلی وزیر

اسرائیلی کابینہ کے ایک سینئر وزیر نے آج بتایا کہ شام میں امریکی زیر قیادت حملہ ایران ‘شام اور لبنان کے عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کے لیے ایک اہم اشارہ ہے ۔ وزیراعظم بنجامن نتن یاہو کی صیانتی کابینہ کے رکن یوک نے بتایا کہ کیمیائی اسلحہ کے استعمال سے وہ سرخ خط عبور ہوجاتاہے جسے انسانیت مزید برداشت نہیں کرسکتی ہے ۔ امریکی برطانوی اور فرانسیسی افواج نے زہریلی گیس حملہ جس میں گذشتہ ہفتہ متعدد افراد ہلاک ہوئے تھے کے جواب میں دوران شام پر فضائی حملے کئے ۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بتایا کہ وہ اس وقت تک یہ رد عمل برقرار رکھنے تیار ہے تاوقتیکہ اسد حکومت کیمیائی اسلحہ کے استعمال کو ترک نہ کریں ۔ گیلنڈ نے بتایا کہ امریکی حملہ بدی کے محور ایران ‘شام اور حزب اللہ کے ایک اہم اشارہ ہے ۔ ایک اسرائیلی عہدیدار نے بتایا کہ قبل ازیں حملوں کی اسرائیل کی اطلاعات دیدی گئی تھی ۔ اس سوال پر کہ کس قدر پیشگی اسرائیل کو انتباہ دیاگیا تھا عہدیدار نے رائٹر کو وہ باور کرتے ہیں کہ یہ کاروائی 12 اور 24 گھنٹوں کے دوران کی گئی تھی ۔ اس سوال پر کہ آیا اسرائیل نے نشانوں کے انتخاب میں مدد کی جس پر شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر عہدیدار نے بتایا کہ انہیں اس بات کا کوئی علم نہیں ۔ صدر بشارالاسد کی تائید میں شام میں ایران کی دخل اندازی سے اسرائیل میں تشویش پیدا ہوگئی ہے جبکہ اس میں یہ بتایاتھا کہ وہ کسی بھی خطرہ کا جواب دے گا ۔ ایرانی تائیدی حزب اللہ جس کے پاس بڑے پیمانہ پر میزائل موجود ہیں ‘اس نے 2008میں اسرائیل کے ساتھ آخری مرتبہ جنگ کی تھی۔ شام ‘ایران اور روس کا کہناہے کہ پیر کو شامی فضائی اڈہ پر ہوئی فضائی حملہ کے پس پردہ اسرائیل رہاہے جس میں 7 ایرانی فوجی ہلاک ہوئے تھے ۔ تاہم اسرائیل نے اس بات کی توثیق یا تردید نہیں کی۔ چہارشنبہ کو روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے وزیراعظم اسرائیل بنجامن نتن یاہو سے بات کرتے ہوئے زور دیا کہ وہ کوئی ایسا اقدام نہ کریں جس سے شام میں عدم استحکام پیدا ہو ۔ کریملن ذرائع نے یہ بات بتائی ۔ اسرائیل نے پابندی کے ساتھ شام پر فضائی حملوں میں اضافہ کردیاہے اور حزب اللہ کے مشتبہ اسلحہ کھیپوں کو نشانہ بنارہاہے ۔

جواب چھوڑیں