غازی آباد میں نابینا لڑکی کی عصمت ریزی کا واقعہ

اترپردیش میں ایک 17 سالہ نابینا لڑکی کی اس کی کرایہ کی قیامگاہ میں عصمت ریزی کی گئی ۔ یہ واقعہ کل رات دیر گئے اس وقت منظر عام پر آیا جب لڑکی نے مدد کے لیے چیخ و پکار کی ۔ لڑکی پر چہارشنبہ کو حملہ کیا گیا تھا ، لیکن جمعہ کی رات دیر گئے تک پولیس کو پتہ نہیں چل سکا ۔ وہ یہاں موہن نگر علاقہ میں مندر کے قریب پائی گئی ، جہاں وہ عوام سے مدد کی اپیل کررہی تھی۔ پولیس نے لڑکی کو مزید کونسلنگ اور پناہ کے لیے چائلڈ ویلفیئر کمیٹی (سی ڈبلیو سی) سے رجوع کیا ہے۔ کونسلنگ کے دوران صدمہ کا شکار لڑکی نے بتایا کہ اس کا تعلق اسی ریاست کے ضلع دیوریا سے ہے۔ اس کے والد کا دس دن پہلے انتقال ہوگیا ، جس کے بعد سے وہ لاجپت نگر رہائشی کالونی میں کرایہ کے مکان میں تنہا مقیم تھی ۔ قبل ازیں اس کی ماں کا بھی انتقال ہوچکا ہے۔ ممبئی میں والد کے ساتھ قیام کے دوران ایک دوا کے ری ایکشن سے اس کی بینائی چلی گئی تھی۔ والد ، لڑکی کے ساتھ نیشنل کیپٹل ریجن (این سی آر) علاقہ میں منتقل ہوگیا تھا ، کیوںکہ یہ لڑکی نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسس میں علاج کروا رہی تھی۔ لڑکی کا والد علاج کے لیے رقم جمع کرنے مختلف کام کیا کرتا تھا۔ جب اس کا اچانک انتقال ہوگیا تو یہ لڑکی بے یارو مدگار ہوگئی ۔ چہارشنبہ کی رات ایک شخص جو موٹر سائیکل پر وہاں پہنچا تھا اس کے کمرہ میں گھس آیا اور دو مرتبہ اس کے ساتھ منہ کالا کیا ۔ بعد ازاںاس نے کمرہ کا دروازہ باہر سے بند کرتے ہوئے راہِ فرار اختیار کی ۔ ہوش میں آنے کے بعد لڑکی نے مدد کے لیے چیخ و پکار شروع کردی ۔ اس کی آواز سن کر مکاندار نے دروازہ کھولا اور اسے بچایا۔ مکاندار نے اسے پولیس سے رجوع ہونے کا مشورہ دیا اور اس کے تمام سامان پر قبضہ کرلیا ۔ اس نے کہا کہ یہ سامان بیچ کر وہ اپنا تین مہینے کا بقایہ کرایہ وصول کرے گا۔ لڑکی کسی طرح قریبی پارسوا ناتھ مندر پہنچنے میں کامیاب ہوگئی ، تاہم کم از کم ایک دن تک کسی نے اس کی مدد نہیں کی ۔ بعد ازاں ایک چائے فروش اس کی مدد کے لیے پہنچا اور وہ پولیس سے ربط پیدا کرسکی ۔ نامعلوم شخص کے خلاف کیس درج کرلیا گیا ہے۔

جواب چھوڑیں