کٹھوعہ عصمت ریزی واقعہ :مہلوک کیساتھ انصاف کیلئے قوم کو اٹھ کھڑے ہونے کا مشورہ : ہیما مالنی

بزرگ اداکارہ و سیاست داں ہیما مالینی کا کہنا ہے کہ آٹھ سالہ مہلوک لڑکی کے ساتھ انصاف کے لیے میڈیا اور ساری قوم کو آگے آنا چاہیے۔ ہیما مالینی نے آج سوشل میڈیا پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر کہاکہ ایسے جانوروں کے خلاف جو چھوٹے بچوں تک نہیں بخشتے ساری قوم کو اٹھ کھڑا ہونا چاہیے اور میڈیا کو اس کی حمایت کرنی چاہیے۔ میں منیکا جی سے اتفاق کرتی ہوں کہ خاطی قرار دیے جانے کے ساتھ ہی ان لوگوں کو سزائے موت دی جانی چاہیے۔ عصمت ریزی کے تمام مجرموں کو جن میں نابالغ بچے بھی شامل ہوتے ہیں ، کوئی ضمانت یا معافی نہیں دی جانی چاہیے ۔ مرکزی وزیر برائے ترقی ٔ خواتین و اطفال منیکا گاندھی نے گذشتہ روز کہا تھا کہ وزارت پوکسو قانون میں ترمیم کا ارادہ رکھتی ہے ، تاکہ عصمت ریزی کے خلاف بھی سخت سزا کی گنجائش فراہم کی جاسکے۔ واضح رہے کہ آٹھ سالہ لڑکی کا تعلق بکروال برادری سے تھا ، جسے 10 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا اور کٹھوا کے موضع رسانہ میں ایک مندر میں رکھا گیا تھا۔ حملہ آوروں میں مندر کا ایک عہدیدار اور پولیس ملازمین شامل تھے ، جنہوں نے اسے نشہ آور دوائیں دی تھیں اور کئی روز تک اس کی عصمت ریزی کی تھی۔ بعد ازاں انہوں نے اس کی نعش قریبی جنگل میں پھینک دی تھی ۔مسلم قبیلہ کو خوفزدہ کرنے کے لیے یہ جرم انجام دیا گیا تھا۔ اسی دوران پی ٹی آئی سے موصولہ علحدہ اطلاع کے بموجب دہلی کمیشن برائے خواتین کی سربراہ سواتی مالیوال نے خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے خاتمہ کے لیے حکومت سے ٹھوس اقدامات کے مطالبہ پر آج دوسرے دن بھی اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھی ۔ سواتی مالیوال جموں و کشمیر کے کٹھوعہ اور اترپردیش کے اناؤ میں عصمت ریزی کے حالیہ واقعات کے خلاف یہ ہڑتال کررہی ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کو کل اس ضمن میں ایک مکتوب بھی روانہ کیا ۔ مالیوال نے بھوک ہڑتال شروع کرنے سے پہلے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے ایک روزہ برت رکھا ۔ ہمیں امید تھی کہ وہ اس مسئلہ پر لب کشائی کریںگے اور ہماری بیٹیوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کا عوام کو تیقن دیںگے ، لیکن وزیر اعظم اور ساری حکومت کی خاموشی افسوسناک ہے ۔

جواب چھوڑیں