شام پرفضائی حملے‘ قانونی اور جائز :نکی ہیلی

امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے کہا ہے کہ شام کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے اور تنصیبات پر ان کے حملے جائز اور قانونی تھے۔ہفتہ کو روس کی درخواست پر بلائے گئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں ان تین عالمی طاقتوں نے ماسکو کے ان الزامات کو مسترد کیا کہ انھوں نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی چارٹر کی خلاف ورزی کی۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام پر امریکی اتحادی ممالک کے حملے کی مذمتی قرارداد مسترد کر دی گئی ہے۔ ہفتے کے دن امریکا، فرانس اور برطانیہ کی طرف سے اس کارروائی کے بعد ماسکو نے سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا تھا، جس میں ان حملوں کی مذمت کی خاطر ایک قرار داد پیش کی گئی تھی۔ تاہم صرف روس، چین اور بولیویا نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ آٹھ ممالک نے اس کی مخالفت کی۔ ادھر عالمی ادارے کے سربراہ انٹونیو گوٹیرش نے اس معاملے پر تناؤ میں اضافے سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شام میں مبینہ کیمیائی حملے کی جامع چھان بین ہونا چاہییں۔امریکی سفیر نکی ہیلی نے اجلاس میں کہا کہ “برطانیہ، فرانس اور امریکہ نے اقدام کیا۔انتقاماً نہیں، سزا کے طور پر نہیں، نہ ہی طاقت کے مظاہرہ کے لیے۔ ہم نے شام کی حکومت کو انسانیت کے خلاف مظالم کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مستقبل میں کیمیائی ہتھیاروں کی استعمال کو روکنے کے لیے اقدام کیا۔ان تینوں اتحادیوں نے ہفتہ کو علی الصبح دمشق میں 105 میزائل داغے تھے۔ شامی حکومت تواتر سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے انکار کرتی آئی ہے۔ہیلی کا کہنا تھا کہ امریکہ کو “یقین” ہے کہ ان حملوں نے شام کے کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو “مفلوج” کردیا ہے۔اقوام متحدہ میں ماسکو کے سفیر کا کہنا تھا کہ ان تین قوتوں نے کیمیائی ہتھیاروں کی ممانعت سے متعلق بین الاقوامی تنظیم کی طرف سے حقائق جاننے کی تحقیقات ہونے سے قبل ہی کارروائی کی۔سفیر ویسلے نیبنزیا نے کہا ہے کہ کیا آپ بین الاقوامی امور پر اب اس طرح سے عمل کرنا چاہتے ہیں۔یہ بین الاقوامی امور میں گناہ ہے اور کوئی چھوٹا گناہ نہیں کیونکہ ہم بڑی جوہری طاقتوں کی بات کر رہے ہیں۔روس نے یہ اجلاس بلایا تھا تا کہ شام پر امریکہ اور اس کے دو اتحادیوں کے حملے کی مذمتی قرارداد منظور کروائی جا سکے لیکن یہ قرارداد ناکام رہی۔ اس کے حق میں صرف تین ووٹ آئے اور صرف چین، روس اور بولیویا نے اس کی حمایت کی۔فرانس کے سفیر فرانسواں دولات کا کہنا تھا کہ “وہ جو سالوں تک بنیادی بین الاقوامی قانون کی پرواہ نہ کرتے رہے، آج یہ ثابت کر رہے ہیں کہ ہمارے اقدام اقوام متحدہ کے چارٹر کے منافی ہیں۔ میں انھیں یاد دلاتا ہوں کہ یہ چارٹر مجرموں کو تحفظ دینے کے لیے تیار نہیں کیا گیا تھا۔برطانیہ کی سفیر نے کہا کہ وہ روس سے بین الاقوامی قانون کے بارے میں “سبق نہیں لیں گی۔اجلاس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے سفیر کیرن پیئرس کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانیہ کا خیال ہے کہ یہ اقدام جائز اور قانونی تھے۔لیکن ان تینوں ملکوں نے شام کے تنازع کے سیاسی حل کو رد نہیں کیا اور فرانس کا کہنا تھا کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے مسئلے کے حل، انسانی بحران پر توجہ دینے اور شام میں امن عمل کے لیے قرارداد تیار کر رہا ہے۔

جواب چھوڑیں