شام پر امریکی فورسس دوبارہ حملے کیلئے تیار: ٹرمپ

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی سفیر نِکی ہیلی کے مطابق انہیں صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ شامی حکومت کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے باز رہے، ورنہ سمجھ لے کہ امریکی فورسز دوبارہ کارروائی کے لیے ’تیار‘ ہیں۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شامی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر شام نے اپنے شہریوں پر مزید کیمیائی حملے کیے تو امریکہ اس پر دوبارہ حملہ کرنے کے لیے ‘پوری طرح تیار ہے۔امریکی صدر کی یہ تنبیہ امریکہ اور اس کے دو اور اتحادیوں کے اس حملے کے بعد آئی ہے جب انھوں شامی حکومت کی جانب سے گذشتہ ہفتے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے جواب میں گذشتہ روز شام کے تین مقامات پر میزائلوں سے حملہ کیا۔واضح رہے کہ شام نے مسلسل کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے الزام کی تردید کی ہے۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام کے مرکزی اتحادی ملک روس نے اس حملے کی مذمت کے لیے قرار داد پیش کی لیکن وہ مسترد کر دی گئی۔روسی قرارداد مسترد ہونے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے سلامتی کونسل میں ایک نئی قرارداد کا مسودہ پیش کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ شامی حکومت کی جانب سے دوما میں مبینہ طور پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں۔اس سے قبل روس نے اسی قسم کے منصوبے کو ویٹو کر دیا تھا۔ادھر برطانوی وزیرِ اعظم ٹریزا مے نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے رکاوٹ ڈالنے کی وجہ سے فوجی کارروائی کے علاوہ کوئی چارہ باقی نہیں رہا تھا۔حملوں کے بعد سلامی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں گرما گرمی کا ماحول دیکھنے میں آیا جب روس نے مغربی ممالک کی جانب سے کیے گئے حملوں کی مذمت کرنے کے لیے قرارداد پیش کرنے کی کوشش کی۔اقوام متحدہ میں روس کے سفیر واسیلی نبینزیا نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کی پیغام پڑھا جس میں انھوں نے اتحادی ممالک پر الزام لگایا کہ انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کا معائنہ کرنے والی ٹیم کی دوما میں ہونے والے واقعے کی تفتیش مکمل ہونے سے پہلے ہی شام پر حملہ کر دیا۔کیمیائی ہتھیاروں کی روک تھام کی عالمی تنظیم او پی سی ڈبلیو کے نمائندے اس وقت شام کے داراحکومت دمشق میں موجود ہیں جہاں سے وہ دوما جائیں گے۔واسیلی نبینزیا نے امریکہ، برطانیہ اور فرانس پر ‘غنڈہ گردی’ کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان ممالک نے ‘عالمی قوانین کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ہے۔’دوسری جانب امریکہ کی اقوام متحدہ میں تعینات سفیر نکی ہیلی نے کہا کہ حملے ‘بالکل جائز، قوانین کے مطابق اور متناسب’ تھے۔میں نے صدر ٹرمپ سے اس بارے میں آج صبح گفتگو کی ہے اور انھوں نے کہا کہ اگر شام نے دوبارہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تو ہم بھی پوری طرح دوبارہ حملہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔نکی ہیلی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے سفارتی کاری کو مسلسل مواقع دیے لیے روس اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ویٹو کرتا چلا گیا۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے شام کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کے مبینہ استعمال کے بعد گذشتہ روز امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے شام پر متعدد میزائل داغے اور امریکی صدر ٹرمپ نے بیان دیا تھا کہ انھوں نے ’مشن مکمل‘ کر لیا ہے جبکہ روسی صدر نے اس حملے کی شدید مذمت کی تھی۔ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ٹویٹ میں شام پر کیے جانے والے حملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ‘گذشتہ رات بے عیب سٹرائیک کی۔ فرانس اور برطانیہ کا شکریہ ان کی دانشمندی اور ان کی اچھی فوجی طاقت کی۔ اس سے بہتر نتائج نہیں آ سکتے تھے۔ مشن مکمل ہو گیا۔’

جواب چھوڑیں